ابھی سوتے رہو بھائی، تمہارا کچھ نہیں بگڑا

505

شکیل جعفری کی ایک آزاد نظم ملاحظہ فرمائیے:
ابھی سوتے رہو بھائی!
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
ابھی بے روزگاری نے
تمہارے درپہ دستک بھی نہیں دی ہے
تمہارے بچے کی بوتل میں ابھی تک دودھ باقی ہے
تمہارے گھر میں راشن ہے ابھی فاقے نہیں ہوتے
تمہارے اہل خانہ رات کو بھوکے نہیں سوتے
ابھی سوتے رہوبھائی، ابھی سے کیوں پریشاں ہو
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
تمہاری والدہ ہیں محترم اب بھی
انہوں نے آج تک تھانہ نہیں دیکھا
جواں بیٹوں کی خاطر کسی سفاک تھانیدار کے
پائوں نہیں پکڑے
تمہاری بہن کو اب تک کوئی ’’کاری‘‘ نہیں کہتا
شریک زندگی کے کھلتے چہرے پر
کسی ظالم نے کب تیزاب پھینکا ہے
نہ تمہاری دختر نیک اخترنے
کوئی اجتماعی زیادتی کا کرب جھیلا ہے
ابھی سوتے رہو بھائی!
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
بتائو کیا کبھی لخت ِ جگر اغوا ہوئی کوئی
یا کبھی تم سے کسی نے کوئی تاوان مانگا ہے
دھماکے ہوتے رہتے ہیں مگر آج تک اب تک
تمہارا بھائی مسجد سے بخیر وعافیت گھر کو پہنچتا ہے
بھتیجا اب بھی گلیوں میںکرکٹ کھیلا کرتا ہے
ابھی تک تو کسی نے بھی اسے الٹا نہیں ٹانگا
نہ اس کی لاش گلیوں میں گھسیٹی ہے
ابھی سوتے رہو بھائی
ابھی سے کیوں پریشاں ہو
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
ابھی اس ظلم کے عفریت میں، تم میں ذرا سا فاصلہ ہے
ابھی تم تک پہنچنے میں ذرا سا وقت باقی ہے
ابھی سوتے رہو بھائی، ابھی کچھ دیر باقی ہے
ایک دور تھا جب ایک دوسرے کو دیکھا، سمجھا اور محسوس کیا جاتا تھا۔ زندگیوں کا مقصد محض اپنے بال بچوں کے تنور نہیں تھے۔ بھائی، بہن، ہم جماعت، دوست، ساتھی، رشتوں کے قلعے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے تھے، لیکن وہ عہد وہ معاشرہ اب خواب وخیال ہوا اب بتدریج ہم ایک مردہ معاشرے کا روپ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے الگ ہوگئے ہیں۔ ایک دوسرے سے لا تعلق، ایک دوسرے کے دکھ درد سے نا آشنا۔
بے وقت موت بے وقت بے روزگاری۔ ہر غریب کے دل میں خوف جانے کب اس کا چولھا ٹھنڈا ہو جائے۔ ہر سفید پوش کے دل میں دھڑکا، سات مہینے ہوگئے تنخواہ نہیں ملی۔ اس مہینے صاحب نے پوری تنخواہ دینے کا پکا وعدہ کیا ہے کہیں ایسا نہ ہو اس مہینے بھی بچوں کی اسکول فیس ادانہ ہوسکے جو پہلے ہی تین ماہ لیٹ ہے اور بڑی منت سماجت کے بعد پرنسپل صاحب نے اس ماہ تک ادائیگی کی مہلت دی تھی لیکن ہم سب rest in peace کی حالت میں شاداں وفرحاں ہیں کیونکہ ابھی تک بے روزگاری نے ہمارے در پر دستک نہیں دی ہے۔ ہزاروں لوگ لاپتا ہیں۔ کل پرسوں ہی کی بات ہے کہ زیارت کے آپریشن میں جو لوگ مارے گئے، کوئٹہ کے سول اسپتال میں ان کی نو لاشیں لائی گئیں جب ان کے ورثا اسپتال پہنچے تو معلوم ہوا پانچ لاشیں لاپتا افراد کی ہیں، شمس ساتکزئی 2017 سے لاپتا تھے، انجینئر ظہیر بنگل زئی کو اکتوبر 2021 کو ان کے دفتر سے اٹھایا گیا، شہزاد کو چار جون 2022 کو اٹھایا گیا، سالم کریم بخش 18اپریل 2022 کو اٹھایا گیا، ڈاکٹر مختار بلوچ 4جون 2021 کو لاپتا کیاگیا۔ جس تھانے جائو، جس متعلقہ افسر سے ملو، عدالت کی زنجیر ہلائو، ہر طرف ایک ہی سوچ ہے۔ سب سے بڑا اللہ کا نام، اس کے بعد میرا نام، اس کے بعد بھی میرا نام، اس کے بعد بھی میرا نام، اس کے بعد بھی میرا ہی نام
کوئی میرے باپ کو بالوں سے پکڑے ہوئے ہے، کوئی میری ماں کے گالوں پر طمانچے مار رہا ہے، میری بہن بیٹی کسی کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کررہی ہے، میرے روئیں روئیں میں سوئیاں چبھنے لگتی ہیں میں آگے بڑھتا ہوں لیکن نزدیک جاکر پتا چلتا ہے وہ میرا باپ نہیں، میری ماں نہیں، میری بہن اور بیٹی نہیں، تب میں ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے اوجھل کرکے آگے بڑھ جاتا ہوں۔ ارباب اختیار سے لے کر معاشرے کی تمام جہتوں تک، سب اس صورتحال کے ذمے دار ہیں لیکن سب بری الذمہ، سب کے ضمیر منقسم، سب کے ضمیر مطمئن۔ ضمیر نہیں کچرے کا ڈھیر ہیں، غلاظت کا انبار ہیں۔ اس مردہ زندگی کو صرف اسلام زندہ کر سکتا ہے، جمہوریت کی تعفن زدہ لاش پر کھڑے ہو کر مدینے جیسی ریاست کے نعرے والا اسلام نہیں۔ میرے آقا محمدؐ کا اسلام، خلافت راشدہ کا اسلام جس میں مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم ہے۔