ہم غریب کے گھر کھانا کھانے چلیں

411

وزیر اعلیٰ صاحب، ’آپ ہم غریب کے گھر کھانا کھانے چلیں گے؟ وزیر اعلیٰ نے ایک لمحے کی دیر لگائے بغیر پوچھا ’آج رات کو؟‘ جواب ملنے پر انہوں نیا اسٹیج پر اپنے دائیں، بائیں موجود افراد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم تینوں آئیں گے‘۔ یہ ایک تقریب تھی، جس میں سامعین میں شامل ایک فرد نے اٹھ کر مائک پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں، میں ایک آٹو والا ہوں آپ آٹو والوں کی بہت مدد کرتے ہیں۔ میں آپ کو اپنے آٹو رکشہ پر ہی دعوت پر گھر لے کر جانا چاہتا ہوں۔ یہ مکالمہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے تھا۔ جو تقریب کے بعد آٹو رکشہ میں بیٹھ کر دعوت میں شرکت کے لیے گئے۔ اور بعد میں کھانے کی تعریف بھی کی۔ عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود بھی ایک عام آدمی کی طرح اپنے معمولات انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی سفر کا آغاز ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کے نام سے بدعنوانی کی تحریک چلانے سے کیا اور بعد میں اپنی سیاسی پارٹی ’عام آدمی‘ پارٹی کی بنیاد رکھی۔
عام آدمی پارٹی نے ریاست پنجاب میں حال ہی میں حیران کن کامیابی حاصل کی ہے۔ اروند کیجروال کی جماعت نے ریاست میں 117 نشستوں میں سے 91 حاصل کی ہیں۔ کانگریس اور بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) اسے اگلے انتخابات کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں۔ اروند کیجروال ایک صاف ستھری ساکھ کے حامل ہیں اور انہیں دہلی میں اچھی کارکردگی دکھانے پر ہر طرف سراہا جارہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم مودی وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے دہلی ماڈل سے خوفزدہ ہیں۔ اور انہیں سنگار پور نہیں جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ کیجریوال کو سنگاپور حکومت نے دہلی ماڈل کے بارے میں سننے کے لیے بلایا تھا۔ اروند کیجریوال نے دہلی میں ہر گھر کو 300 یونٹ مفت بجلی، فرشتے اسکیم کے تحت 50 لاکھ کا مفت علاج، عورتوں کو مفت بس سفر، 18 لاکھ بچوں کو اچھی تعلیم، مفت ادویات، مفت علاج، مفت پانی کی سہولتیں دی ہیں، ان کی کارکردگی نے نریندر مودی کی نیند اڑا دی ہے۔ ان کے ’’دہلی ماڈل آف گورننس‘‘ نے گزشتہ سات سال میں قومی دارالحکومت کا چہرہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ کیجریوال نے تمام چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔ لیکن دہلی میں اپنے شہریوں کو بہترین عوامی خدمات فراہم کرنے کے مشن پر ڈٹے رہے ہیں۔ انہوں نے دہلی کے بجٹ کو خسارے میں نہیں جانے دیا۔ وہ اپنی عوامی خدمت پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے دہلی کے لوگوں کو بہترین سہولتیں فراہم کر ر ہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کا چرچا ہے۔ دہلی میں ملک گیر انسداد بدعنوانی تحریک کے بعد جب وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی قیادت میں حکومت بنی تھی تو حکومت نے لوگوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے عزم اور لگن کے ساتھ کام کیا۔ 2015 تک دہلی میں بجلی کے نرخ بہت زیادہ تھے۔ اس کے علاوہ کئی کئی گھنٹے بجلی کی مسلسل بندش رہتی تھی۔ لوگ بجلی کی بندش کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھنے لگے تھے۔ بجلی کمپنیاں بھی خسارے میں چل رہی تھیں۔ اس وقت دہلی کے صرف 50 فی صد میں پانی کی سپلائی کے لیے پائپ لائن تھی اور صرف 40 فی صد کے پاس سیوریج لائن تھی۔ سرکاری اسکولوں کی حالت خستہ تھی۔ اساتذہ تعلیم سے دور تھے۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2014ء میں نئی دہلی دنیا کا سب سے آلودہ شہر تھا۔ نئی دہلی میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد قریب ساڑھے سات ملین تھی۔ ان میں سے زیادہ تر انتہائی فضائی آلودگی کا سبب بننے والے ڈیزل سے چلتی تھی۔ اس کے علاوہ تعمیراتی کاموں کے سبب پیدا ہونے والی دھول، کاشت کاری اور فصلوں کے فضلے کو جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہے تھے۔ انہوں نے گاڑیوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے دہلی میں 30 ہزار بسیں چلا کر عوام کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی۔ نئی حکومت بننے کے بعد 2020 تک دہلی میں یہ صورتحال بدل گئی ہے۔ کیجریوال حکومت نے اپنی پالیسیوں سے ہر کسی کو بہتر عوامی سہولتیں فراہم کیں۔ محلہ کلینک کے اپنے ماڈل کے ساتھ، کیجریوال حکومت لوگوں کو مفت بنیادی صحت کی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اس وقت بھارت میں دہلی واحد ریاستی حکومت ہے جس کے پاس مالیاتی خسارہ نہیں ہے۔ سات سال میں دہلی حکومت کا بجٹ 30 ہزار کروڑ سے بڑھ کر 75 ہزار کروڑ ہو گیا ہے اور دہلی کی جی ڈی پی میں 150 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اروند کیجروال تو اس مطالبہ کی حمایت کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت ایسا قانون منظور کرے کہ اگر کوئی بدعنوانی کرے تو اسے جیل جانا پڑے، اس کی جائداد ضبط کی جائے۔ کانگریس اور ساری پارٹی یہ نہیں مانیں۔ سیاست میں ساری پارٹیاں پردے کے پیچھے ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ یہی سب کچھ ہمارے ملک میں بھی ہورہا ہے، کرپشن کرپشن سب چلاتے ہیں۔ فتح کی انگلیاں اٹھائے جیل چلے جاتے ہیں، لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا۔ یہی نظام چل رہا ہے۔ جب تک یہ سیاست نہیں بدلے گی تب تک ہمیں بدعنوانی سے نجات نہیں مل سکتی۔ اس کے لیے پاکستان میں بھی کوئی عام آدمی پارٹی اور کیجریوال جیسا لیڈر چاہیے۔