سیلز ٹیکس کے نام پر تاجر دشمن اقدام غیر منصفانہ ہے، حافظ نعیم الرحمن

184

کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سیلز ٹیکس کے نام پر تاجر دشمن حکومتی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کراچی کے تاجروں پر کے الیکٹرک بل کے ذریعے سیلز ٹیکس کے ظالمانہ نفاذ کے خلاف اور مارکیٹوں میں گندگی اور بڑھتے ہوئے سنگین مسائل پر تاجروں کے ساتھ ادارہ نور حق میں ہفتے کے روز اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقع پر نائب امراءکراچی پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر و امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈوکیٹ ، کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر، اسمال ٹریڈرز ایسوسی ایشنز کے جنرل سکریٹری محبوب عالم، آل پاکستان اسمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریر کراچی کے صدر محمود حامد، پاکستان بزنس فورم کراچی کے صدر کامل ملتانی، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجود تھے ۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے بلوں میں 6 ہزار سیلز ٹیکس لگا کر بھیجے جارہے ہیں۔ لاکھوں تاجر پریشان حال ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔شہر کا انفرااسٹرکچر پہلے ہی تباہ حال ہے، دوسری جانب تاجروں پر سیلز ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ سیلز ٹیکس کا مسئلہ صرف تاجروں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے کراچی کا مسئلہ ہے۔ جب حکمران عوام کے بنیادی مسائل کو سیاست میں شامل نہیں کرتے تو عوام پھر ان کے خلاف ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کراچی تاجروں اور عوام کے ساتھ ہیں۔ سیلز ٹیکس کے نام پر کے الیکٹرک کے بلوں میں لگایا گیا ہے جو کہ غیر منصفانہ ہے۔ مفتاح اسماعیل کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ چیمبر کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی ٹیکس لگائیں۔ کراچی کا ہر تاجر ٹیکس دینے کے لیے تیار ہے لیکن غیر منصفانہ ٹیکس کسی صورت قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل بتائیں کہ پورے ملک میں صرف کراچی پر ہی کیوں سیلز ٹیکس لگایا گیا۔ کے الیکٹرک اوور بلنگ کرتے ہیں ، 32 لاکھ سے صارفین کے لیے میٹر چیکنگ کا کو کوئی ادارہ نہیں ہے۔ کراچی نے گزشتہ سال کی بنسبت امسال 42 فیصد ٹیکس زیادہ دیا ہے۔ کراچی پورے ملک کی معیشت کو چلاتا ہے لیکن اس کے بدلے میں کراچی کے عوام کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیے جاتے۔

حکومت نے سیلز ٹیکس کی وصولی کے لیے کے الیکٹرک کا استعمال کیا جو کہ پہلے ہی مشکوک ہے۔ یوٹیلٹی بل 24000 میں صرف 27000 ٹیکس لگا کر بھیج دیا گیا جو کہ غیر منصفانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تاجروں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ جب تک بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس لگا کر بھیجا جائے گا تاجر برادری ٹیکس ادا نہیں کرے گی۔ بجلی کا بل ضرور ادا کریں گے لیکن سیلز ٹیکس ادا نہیں کریں گے۔ اگر بل ادا نہ کرنے پر کے الیکٹرک نے اضافی چارجز لگا کر بھیجے تو ہم کے الیکٹرک کا گھیراؤ کریں گے۔

تاجر سیلز ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ ٹیکس تاجروں کی مشاورت سے مختص کیا جائے اور بجلی کے بلوں سے الگ کیا جائے۔ ہم منگل کے روز ادارہ نور حق میں ایک بڑا تاجر کنونشن منعقد کریں گے۔ اگر 2 دن میں ظالمانہ سیلز ٹیکس بجلی کے بلوں سے الگ نہ کیا تو ہم ہڑتال کا آپشن بھی رکھتے ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے گندگی اور غلاظت موجود ہے۔ سارے دعویدار خوف کا شکار ہیں کہ بارش کے بعد شہر کی صورتحال کیا ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے سیاسی ایڈمنسٹریٹر سوائے زبانی جمع خرچ کے اور پوائنٹ اسکورنگ کے کچھ نہیں کررہے۔ حکمران بتائیں کہ ندی نالوں کی صفائی کے لیے جو اربوں روپے مختص کیے گئے تھے وہ کہاں خرچ کیے گئے۔ ہم تاجروں کے تمام مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ منگل کو تاجر کنونشن کریں گے اور اس کے بعد شہر بھر کی اہم شاہراؤں پر طویل دھرنے اور ہڑتال بھی کریں گے۔