سیاسی ومعاشی بحران خطرناک، 10 کروڑ افراد بھوک کا شکار

202

کراچی:نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام، توانائی بحران اورمجوعی معاشی بدحالی کی وجہ سے اب کم ازکم دس کروڑافراد پیٹ بھرکرکھانا نہیں کھاسکتے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ  لوگ صحت اورتعلیم پرکمپرومائیزکرنے پرمجبورہوچکے ہیں اوراپنے بچوں کواسکولوں سے نکال کرکام پرلگا رہے ہیں۔ ملک میں نفرت کی سیاست اورقومیت کوہوا دی جا رہی ہے جس سے سماج تباہ ہورہا ہے اوراقتصادی حالات مذید خراب ہورہے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھرمیں بارشوں نے تباہی مچا دی ہے جبکہ اس وقت کئی علاقوں میں قحط جیسی صورتحال ہے جس کا نوٹس نہیں لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  مہنگائی نے عوام سے جینے کاحق چھین لیا ہے جبکہ کمزورمسابقتی قوانین کی وجہ سے کارٹیلزعوام کومسلسل لوٹ رہی ہیں مگراس جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے جس نے مسابقتی کمیشن کوخزانے پرایک بوجھ بنا ڈالا ہے۔

میاں زاہد حسین کا کہنا تھا کہ بجلی مسلسل مہنگی کی جا رہی ہے اور معاشی حالات تشویشناک ہوتے جا رہے ہیں سیاسی محازآرائی نے ڈیفالٹ کے اندیشے کو مذید بڑھا دیا ہے اور روپے کوٹشوپیپرکی طرح بے قدرکردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ نومبر 1998 کے بعد روپے کی قدرمیں ایک ہفتے کے دوران اتنی کمی نہیں آئی جتنی اب آئی ہے اور ڈالر 228 روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ کاروباری اداروں کو درآمد شدہ مال کی پورٹ سے کلیئرنس کے لیے بینکوں سے ڈالرز کے حصول میں شدید دشواریاں پیش آ رہی ہیں اور ان کو یومیہ لاکھوں روپے کے اضافی ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز کی ادائیگی کا سامنا ہے۔