موسمیاتی تغیر سے 30 فی صد جانور  ختم ہوجائیں گے، تحقیق

147

سینٹ پال: موسمیاتی تغیر سے عالمی سطح پرجانوروں کی معدومیت کا بحران شدید تر ہونے کی پیش گوئی،یونیورسٹی آف مِنیسوٹا کی سربراہی میں تحقیق کرنے والی ایک محققین کی ٹیم کومعلوم ہوا کہ تمام انواع کے تقریباً 30 فی صد جانور 2100 تک ختم ہوجائیں گے یا ان کو شدید خطرہ لاحق ہوگا۔

 ایسا ہونے کی بڑی وجہ حیاتیاتی تنوع کو پہنچنے والا نقصان، انسانی آبادی اور موسمیاتی تغیر ہے،غیرمنافع بخش ادارے مرکز برائے حیاتیاری تنوع میں خطرے سے دوچار انواع کے ڈائریکٹر نوح گرینوالڈ نے ان اعداد کو کافی خطرناک قرار دیا ہے۔

گرینوالڈ کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تغیرکو ایک واضح مسئلہ بننے میں کئی برسوں کا عرصہ لگا ہے۔ جانوروں کی معدومیت کا بحران موسمیاتی تغیر کی شدت کا ایک حقیقی نتیجہ ہے۔

محققین کی ٹیم نے ایک سروے کیا جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر کے ماہرین کو دعوت دی گئی اور 187 ممالک سے تعلق رکھنے والے 3331 سائنس دان جو حیاتیاتی تنوع کا مطالعہ کر رہے ہیں کے جوابات موصول ہے۔

محققین کے گروپ کے چیف سائنس دان ہیلی ہیملٹن کا کہنا تھا کہ جن مخلوقات کو خطرہ لاحق ہے ان میں زیادہ تر پودے اور حشرات الارض شامل ہیں۔ ان کے ساتھ بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جانور بھی شامل ہیں، لیکن محققین کو ان مخلوقات کے متعلق بہت کم معلومات ہیں کہ ان کو کس حد تک خطرات لاحق ہیں۔