سندھ میں بلدیاتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ

281

بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں جو صوبہ سندھ میں 26 جون کو منعقد ہوا تھا پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ یافتہ امیدواران سب سے زیادہ تعداد میں کامیاب ہوئے۔ پی پی نے 14 اضلاع میں اپنے امیدواروں کو بڑی تعداد میں قبل از الیکشن ہی کامیاب کروا لیا تھا اور پھر الیکشن کے روز بھی اس کی جانب سے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے جس انداز میں تمام تر حکومتی وسائل سمیت دیگر جائز و ناجائز انتخابی ہتھکنڈوں کو استعمال کیا گیا اس کی ساری تفصیل بذریعہ میڈیا مشتہر ہوچکی ہے۔ پی پی کی جانب سے اپنی انتخابی کامیابی کے لیے جو حربے اور طریقے آزمائے گئے ان کی وجہ سے پی پی کے چہرے سے ایک جمہوری پارٹی ہونے کا نقاب اُتر گیا، لیکن پی پی کی قیادت کو اس کی مطلق کوئی فکر یا پروا نہیں ہے بلکہ وہ تو اس امر پر شاداں اور فرحاں ہے کہ پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخاب میں اس کے امیدواروں نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ حالاں کہ پی پی نے اپنی اس انتخابی کامیابی کے لیے جس طرح اپنی ساری اخلاقی ساکھ تک کو دائو پر لگادیا تھا اس پر سبھی کو حیرت ہوئی ہے۔ یہ حیرت اس لیے بھی ہے کہ پی پی کی قیادت نے ہمیشہ ہی جمہوریت اور جمہوری اقدار کا زور و شور سے راگ الآپا ہے۔ بہرحال اب سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں حیدر آباد اور کراچی ڈویژن میں بروز اتوار 24 جولائی کو بلدیاتی الیکشن کا انعقاد ہوگا۔ ان دو ڈویژن کے 16 اضلاع میں تاحال 660 امیدوار بلامقابلہ ہی کامیاب قرار دیے جاچکے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے ہیں جن کی تعداد 582 ہے۔ شنید ہے کہ اپنے ان امیدواران کو بلامقابلہ کامیاب کرانے کی خاطر گزشتہ 15 برس سے صوبہ سندھ کے اقتدار پر براجمان پی پی قیادت نے حسب سابق روایتی انداز میں سارے سیاسی وغیر سیاسی، جائز اور ناجائز حربوں کو اختیار کیا ہے۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے 12 اور پی ٹی آئی کے 35 امیدوار بھی بلامقابلہ کامیاب قرار دیے جاچکے ہیں۔ بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں 3822 نشستوں پر 20 ہزار 180 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہو گا۔ فتح و شکست کس کا مقدر ہوگی؟ کون اس انتخابی معرکے میں میدان مارے گا اس کا فیصلہ تو 24 جولائی کو بلدیاتی انتخاب کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی سامنے آسکے گا، البتہ تمام امیدواروں نے اپنی کامیابی کے حصول کے لیے کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔
دوسری جانب ایک حیرت انگیز سیاسی پیش رفت بھی دیکھی گئی ہے۔ ماضی میں ایک دوسرے کے شدید سیاسی حریف بلکہ ایک نوع سے جانی دشمن رہنے والی دو سیاسی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان قومی اسمبلی کے حلقہ 245 پر ضمنی الیکشن اور بلدیاتی انتخاب میں بھی صوبہ سندھ کی سطح پر انتخابی اتحاد ہوگیا ہے۔ سچ ہے کہ سیاست کے سینے میں دل اور احساسات نہیں ہوتے اور بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ سیاسی مفادات کے حصول اور انتخاب میں کامیابی کے لیے جس طرح سے ماضی میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اچانک ہی انتخابی کامیابی کے لیے ایک جان اور دو قالب ہوگئے ہیں اس پر بجا طور پر اظہار حیرت کیا جارہا ہے۔ اس بلدیاتی الیکشن میں جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، جی ڈی اے، جے یو آئی، آزاد امیدواران، تحریک لبیک پاکستان، مختلف مقامی نوعیت کے اتحاد اور قوم پرست جماعتوں کے امیدوار بھی بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ بلدیاتی الیکشن اس لیے بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان 16 اضلاع میں سندھ کے دارالحکومت کراچی اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کی میئر شپ کے حصول کے لیے بھی جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی وغیرہ میں شدید انتخابی معرکہ آرائی ہوگی۔ پیپلز پارٹی ان شہروں میں میئر شپ حاصل کرنے کے لیے اپنے سارے حکومتی وسائل اور تعلقات استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ پی ٹی آئی اور متحدہ بھی اس کے لیے سرگرداں ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیدوار انجینئر حافظ نعیم الرحمن کو کراچی کی میئر شپ کے امیدوار کے لیے غیر جانبدار سیاسی مبصرین اور عوام کی جانب سے سب سے موزوں اور ہاٹ فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔ حیدر آباد، کراچی اور تمام سندھ میں جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن نے ہر موقع پر آفات ارض و سماوی میں جس طرح سے بے لوث انداز میں عوام کی بڑے پیمانے پر خدمات سرانجام دی ہیں اس کا اعتراف دوست اور دشمن سبھی کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیدواروں کو دیہی سندھ کے مخصوص جاگیردارانہ سیاسی، سماجی اور قبائلی ماحول کی بنا پر خاطر خواہ کامیابی میسر نہیں آسکی لیکن امید یہ کی جارہی ہے کہ حیدر آباد خصوصاً کراچی میں 24 جولائی کو ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی سمیت جماعت کے ٹکٹ یافتہ امیدواران بڑی تعداد میں کامیاب ہوجائیں گے جس کی ایک بڑی وجہ اس شہر میں جماعت اسلامی کی طرف سے ماضی میں سرانجام دی گئی بے لوث عوامی خدمات ہیں جن کا مقابلہ جماعت اسلامی کی حریف سیاسی جماعتیں کسی طور کر ہی نہیں سکتیں۔ کراچی جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ کمیٹی کی طرف سے بحریہ ٹائون کے متاثرین کو تاحال ملک ریاض سے مذاکرات کے بعد سوا چار ارب روپے کی خطیر رقم واجبات کی صورت میں ادا کی جاچکی ہے۔ صرف یہی ایک اتنا بڑا اور سنہری کارنامہ ہے جس کی کوئی نظیر ماضی اور حال کی تاریخ میں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ خود متاثرین بحریہ ٹائون تک یہ اعتراف کرچکے ہیں (جن میں ریٹائرڈ سیکورٹی اداروں کے افسران اور ان کے رشتے دار بھی شامل ہیں) کہ وہ اپنی بحریہ ٹائون کے پاس پھنسی ہوئی رقم کی واپسی کے حوالے سے یکسر مایوس اور ناامید ہوچکے تھے لیکن جس طرح سے حافظ نعیم الرحمن، نجیب ایوبی اور جماعت اسلامی کی ساری قیادت نے دانش مندی اور حکمت عملی کو اپنا کر ان کے واجبات بحریہ ٹائون کی انتظامیہ سے انہیں واپس دلائے ہیں وہ ان کے لیے بھی ناقابل یقین اور ایک خواب کی مانند ہے۔
اسی طرح سے جماعت اسلامی کراچی نے حافظ نعیم الرحمن کے دور امارت میں اہل کراچی کے دیرینہ مسائل کے تدارک کے لیے پے در پے جو عملی مساعی کی سندھ اسمبلی اور اقتدار کے ایوان کے الیکٹرک کے دفاتر کے سامنے احتجاج کیا گیا، کئی کئی روز شدید بارش اور موسم کی شدت کی پروا نہ کرکے کارکنان جماعت نے حافظ صاحب کی زیر قیادت دھرنے دیے اور حکومت سندھ کو ان سے مذاکرات اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ باقاعدہ اقدامات بھی کرنے پڑے۔ وہ ثابت کرتا ہے کہ حافظ صاحب ’’نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو‘‘ کی ایک تابندہ اور جیتی جاگتی مثال ہیں۔ کراچی کی میئر شپ کے لیے ان کا انتخاب ان شاء اللہ ایک نعمت عظمیٰ ثابت ہوگا اور وہ نعمت اللہ خان کی میئر شپ کا تسلسل بن کر اہل کراچی کو دیرینہ مسائل سے نجات کے لیے شبانہ روز جدوجہد کریں گے۔ اہل کراچی پر بھی یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اور جماعت اسلامی کے امیدواروں کو بڑی تعداد میں کامیاب کریں۔ بصورت دیگر وہ تادیر اسی طرح سے پریشان اور مضطرب رہیں گے۔
بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں سندھ کی مختلف قوم پرست جماعتوں کے امیدوار بھی قسمت آزمائی کریں گے لیکن ان کی کسی نشست پر کامیابی کا امکان بے حد کم اور موہوم ہے۔ بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں معروف قوم پرست رہنما ڈاکٹر دو دو مہری تک کو جنرل کونسلر 21 کی سیٹ پر کامیاب ہونے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کا سہارا لینا پڑا تھا۔ جس پر تمام سیاسی حلقے، سیاسی مبصرین، تجزیہ نگار اور عوام تک مبتلائے حیرت ہوگئے تھے اور اس بنا پر ڈاکٹر صاحب موصوف کا سوشل میڈیا پر مذاق بھی اڑایا گیا تھا کہ آخر اپنے بڑے اور معروف قوم پرست رہنما کو کون سی مجبوری لاحق ہوگئی ہے کہ وہ صرف جنرل کونسلر جیسی چھوٹی سی نشست کے لیے پی پی کی قیادت کے احسان مند ہونے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخاب میں کون کس حد تک کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ 24 جولائی کو ہونے والے الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہوجائے گا۔
بقول شاعر:
اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؟
گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا؟