سب بتادوں… روز یہ بات بھول جاتا ہوں

384

سابق وزیراعظم عمران خان نے دھمکی دی ہے کہ مجھے دیوار سے لگایا گیا تو سب بتادوں گا۔ انہوں نے اپنی ایک مبینہ ویڈیو یا کسی نئی ویڈیو کا حوالہ دیا ہے کہ ویڈیو بنا کر محفوظ جگہ رکھ دی ہے۔ مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو سامنے لائی جائے کوئی ایک بات ہو تو نامعلوم نمبر سے کال آجاتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قوم کا نقصان نہ ہو اس لیے خاموش ہوں۔ انہوں نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں (پی ڈی ایم والوں) نے این آر او لینے کے لیے میری حکومت گرائی۔ اس سے پہلے امریکی سازش کا ذکر بھی کیا کہ عدلیہ بتائے کہ سازش میں کون ملوث ہے۔ گویا یہ امریکی سازش تھی جس کے ذریعے پی ڈی ایم والوں کو این آر او مل رہا ہے۔ عمران خان نے پہلے بھی ایک ویڈیو کا ذکر کیا تھا پھر ان کے دو موبائل چوری ہونے کا ذکر سامنے آیا اور اس ویڈیو کا ذکر غائب ہوگیا پھر ضمنی انتخاب سے قبل انہوں نے ایکس وائی کی رٹ لگادی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ ایکس اور وائی ہوتے ہیں وہ فرد نہیں ادارہ ہوتے ہیں اور ادارے اس طرح کام نہیں کرتے۔ بالکل اس طرح کام کرتے ہیں جس طرح 2018ء کے انتخابات میں کیا تھا۔ یہ تو خان صاحب کو بھی پتا ہوگا۔ 2018ء کے مسٹر ایکس اور وائی کون تھے جنہوں نے انتخابی نتائج میں گھپلا کیا تھا۔ یقینا عمران خان کے پاس بہت سے راز ہوں گے کیوں کہ وہ وزیراعظم رہ چکے ہیں ان کے سامنے اور ان کی موجودگی یا غیر موجودگی میں بہت سے کام ایسے ہوئے ہوں گے جن کے بارے میں قوم بے خبر ہوتی ہے۔ عمران خان جس انداز میں کہہ رہے ہیں کہ مجھے دیوار سے لگایا گیا تو سب بتادوں گا۔ یعنی یہ ایسی بات ہوگی جس سے ملک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر انہوں نے ایسی بات کی ہے کہ انہیں قومی سلامتی کمیٹی میں طلب کرکے بند کمرے میں حقائق معلوم کیے جائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ سنگین حقائق کو چھپائے بیٹھے رہیں اور ملک کو نقصان پہنچ جائے۔ جس طرح وہ امریکی مراسلہ 9 ماہ تک چھپائے بیٹھے رہے۔ لیکن عمران خان ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ کسی حساس ادارے یا شخصیت کے بارے میں سب کچھ بتادیں۔ کیوں کہ اب ان کے اپنے بارے میں بھی بہت کچھ بتایا جاسکتا ہے۔ یہ جو ایکس اور وائی ہیں یہ تو فرح گوگی اور مانیکا فیملی کے بھی بہت سے راز جانتے ہوں گے۔ خان صاحب کو 2018ء میں لانے والے مسٹر ایکس اور مسٹر وائی تو ان کے امریکی راز بھی جانتے ہیں اور یہ راز کون نہیں جانتا کہ 2018ء میں ایک مسٹر جے ٹی بھی تھے جن کے طیارے کو مسٹر ایکس کے حکم پر مسٹر وائی اڑاتے تھے اور مسٹر ایکس کے حکم پر 20 آزاد ارکان صوبائی اسمبلی کے گلے میں پی ٹی آئی کا ترنگا باندھا گیا تھا۔ خان صاحب کے فارن فنڈنگ سے لے کر بنی گالا اور سلائی مشینوں کی آمدنی سمیت درجنوں کاموں اور رازوں سے ایک دنیا واقف ہے بس اس کا باضابطہ اعلان ہونا ضروری ہے۔ عمران خان اس سے قبل بھی ایسی ہی باتیں کرچکے ہیں اور قومی سلامتی کمیٹی میں امریکی مراسلے کا ڈراما بھی فلاپ ہوچکا ہے۔ ویڈیو کا شوشا بھی پہلے چھوڑا جاچکا ہے۔ یادش بخیر ایک زمانے میں عبدالستار ایدھی نے بھی اہم رازوں پر مشتمل ایک بیان لکھوا کر لندن میں رکھوا دیا تھا۔ اس کے بعد وہ طویل عرصے تک حیات رہے لیکن وہ بیان سامنے آیا نہ کوئی قدم اٹھایا گیا۔ اس قسم کے شوشے چھوڑ کر قوم کو دھمکایا جارہا ہے۔
عمران خان صاحب کے بیانات پر لوگ اس طرح یقین کرلیتے ہیں جیسے کوا کان لے گیا پر یقین کرکے کوے کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت ڈالر 178 کا تھا اب 215 کا ہوگیا ہے۔ لیکن وہ پوری بات نہیں کرتے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے وقت ڈالر 109 روپے کا تھا۔ اچھے اچھے بظاہر سمجھدار لوگ بھی ایسے شوشوں کے اثر میں آجاتے ہیں۔ حالاں کہ جو حقیقت ہے وہ تو بدل نہیں سکتی اور حقیقت تو یہی ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ق) یہ سب آئی ایم ایف کی غلامی کے فیصلوں پر دستخط کرتے رہے ہیں۔ گویا
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
عمران خان کے اداروں کے بارے میں روز روز کے بیانات اور سب بتادوں گا کی تکرار کے دوران کئی مرتبہ یہ یوٹرن بھی لیا گیا ہے کہ میں اداروں سے اسٹیبلشمنٹ سے لڑنا نہیں چاہتا۔
اداروں پر تنقید میں بھی بس یہ خواہش جھلک رہی ہے۔
یہ ترک تعلق کا کیا تذکرہ ہے
تمہارے سوا کوئی اپنا نہیں ہے
اگر تم کہو تو میں خود کو بھلادوں
تمہیں بھول جانے کی طاقت نہیں ہے
٭٭
روز کہتا ہوں بھول جائوں تمہیں
روز یہ بات بھول جاتا ہوں