قانون بر تر ہے

284

معروف پارلیمنٹیرین ممتاز شاعر تابش الوریٰ تمغہ ٔ امتیاز کی رہائش گاہ پر ہر ماہ ’’ادبی پڑائو‘‘ ہوتا ہے اس ماہ سیاسی پڑائو بن گیا موضوع تھا سیاسی پارٹیاں ان کے رویے اور ملکی سیاست۔ اکثریت کا خیال تھا کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اس حد تک ایک دوسرے کے مخالف ہیں کہ ایک دوسرے کو ملک کے لیے خطرناک سمجھتے ہیں مگر ان دنوں ان کی دوستی بے مثال بنی ہوئی ہے اور یہ سب عمران خان کے خوف کا نتیجہ ہے اس ضمن میں ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے تھے لیکن اکثریت کی رائے کے احترام میں خاموش ہی رہے حالانکہ اس حقیقت کا ادارک سبھی کو ہے سیاسی پارٹیوں کا اتحاد عمران خان کے خوف سے نہیں ہوا اس کی اصل وجہ تحریک انصاف کی مقبولیت ہے کیونکہ اس کی مقبولیت موروثی سیاست کی موت ہے۔ عمران خان کے بیٹے پاکستان آنا پسند نہیں کرتے ان کا پاکستانی سیاست میں آنا ممکن ہی نہیں، عمران خان کی خواہش کے باوجو وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔ ہمیں احساس ہے کہ عمران خان کے حامی اور ان کے عقیدت مند ہماری رائے سے متفق نہیں ہو سکتے مگر تاریخی حقائق کو جھٹلانا اپنی ذات کی تکذیب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بابائے قوم محمد علی جناح کی بیٹی کا رویہ ہماری تائید کرتا ہے، شنید ہے قاسم خان اور سلمان خان کو اس بات کا دکھ ہے کہ مسلمان انہیں یہودی اور یہودی انہیں مسلمان سمجھتے ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اس کی حیثیت زیب داستاں کے سوا کچھ بھی نہیں کیونکہ بھٹو مرحوم کا جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنانا احسان نہیں تھا اختیارات سے تجاوز تھا جو آئین پاکستان کے تحت جرم ہے اور جرم بھی ایسا سنگین جو آرٹیکل 6 کے دائرے میں آتا ہے یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ سرکاری ملازمین حکومت کے ملازم نہیں ہوتے ریاست کے ملازم ہوتے ہیں حکومت عارضی ہوتی ہے ریاست مستقل وجود رکھتی ہے اس لیے وزیر اعظم کا کسی کو ترقی دینا اس کی ذمے داری اور اختیار ہے، وزیراعظم کا اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا احسان نہیں اپنی ذمے داری اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے جسے خوش آئند اور خوشگوار عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
گفتگو کے دوران سوال کیا گیا پاکستان کا کون سا ادارہ برتر ہے سبھی کی رائے تھی کہ پارلیمنٹ ہر ادارے سے برتر ہے عدم اعتماد کی تحریک کے دوران عدلیہ کی کارکردگی نے پارلیمنٹ کی برتری کو پامال کر دیا، بے رحمی سے روند ڈالا عدلیہ نے اس حقیقت سے مکمل انحراف کیا کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کی مداخلت اس کا دائرہ اختیار نہیں ہم سب کی باتیں خاموشی سے سنتے رہے مگر جب محترم تابش الوریٰ دانشوری کے دائرے سے نکل کر سیاست دان کے روپ میں آئے تو خاموش نہ رہا گیا کیونکہ ان کا بھی یہی خیال تھا کہ پارلیمنٹ ہی سپر ہے عدلیہ صرف قانون کی تشریح کر سکتی ہے، پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ ان کی بات سن کر ہم نے کہا شاہ صاحب اگر پارلیمنٹ کسی وزیر اعظم کو تاحیات وزیر اعظم قرار دے تو اس لاقانونیت پر کون سا ادارہ متحرک ہوگا؟ پارلیمنٹ کے اس نامعقول رویے اور بے ہودہ روش کی گرفت کون کرے گا؟ جواباً کہا گیا عدلیہ کے سوا کوئی اور اس معاملہ میں کوئی حائل نہیں ہو سکتا کیونکہ قانون سپر ہے، قانون کی برتری کے سامنے سب کو سرنگوں ہونا پڑتا ہے، کہا گیا کہ بالکل درست ہے کیونکہ دنیا کی وہی قومیں خوشحال ہوتی ہیں اور وہی ملک مستحکم ہوتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے عدم اعتماد کی تحریک کے دوران پارلیمنٹ کا رویہ آمریت کا مظہر تھا اس لیے قانون کو اپنی ذمے داری نبھانے کے لیے متحرک اور فعال ہونا پڑا۔
اس معاملے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ پارلیمنٹ ہے کیا؟ پاکستان کا بچہ بچہ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو چور ڈاکو لٹیرا کہتے نہیں تھکتیں حتیٰ کہ ارکان پارلیمنٹ ایک دوسرے کو کرپٹ اور بدعنوان ہی نہیں کہتے ملک دشمن اور غدار بھی قرار دیتے رہتے ہیں اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کرپٹ اور بدعنوان اور غدار وطن لوگوں کو کیوں اور کیسے برتر تسلیم کر لیا جائے، قانون کی خلاف ورزی ناقابل تعزیر عمل ہے اس کا ارتکاب رکن پارلیمنٹ کرے یا وزیر اعظم۔۔۔ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران حکومت کا رویہ انتہائی آمرانہ اور جمہوریت کش تھا پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی جمہوری عمل میں حائل ہو اس معاملے میں عدالت سے رجوع کیا گیا تو حکومتی وکلا کا اصرار تھا کہ پارلیمنٹ کے معاملات میں عدلیہ مداخلت نہیں کر سکتی کیونکہ پارلیمنٹ کا فرمان ہی حرف آخر ہوتا ہے۔
پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے سو یہ ایک اسلامی ریاست ہے یہاں خدا کا فرمان ہی حرف آخر ہے۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جس ملک کی پارلیمنٹ چوروں، لٹیروں، ڈاکوئوں اور غداروں کا گڑ ہو اسے سپر کیسے کہا جا سکتا ہے برتر کردار ہوتا ہے صرف قانون ہی کو برتری حاصل ہے۔