کراچی… بلدیاتی انتخابات کا التوا

306

پاکستان کے سب سے بڑے اور تجارتی دارالحکومت کراچی کے بلدیاتی اور شہری نظام کی تباہی چند اہم قومی مسائل میں سے ایک ہے۔ کراچی کی تباہی ریاستی سطح پر ناکام طرز حکمرانی کی شہادت بھی ہے، لیکن اس شہر کی تباہی کے مسئلے کو جس طرح قومی مسائل کے مباحث کا اہم حصہ بننا چاہیے تھا، بدقسمتی سے نہیں بن سکا، کراچی کی صورت حال پر مضطرب اہل دانش دو عشروں سے سوال کررہے ہیں کہ اس شہر کا کوئی والی وارث ہے بھی کہ نہیں؟ اس پس منظر میں 24 جولائی کو منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات شہریوں کے لیے روشنی کی کرن تھے، جس سے اس بات کی امید کی جاتی تھی کہ شہریوں کو یہ تو معلوم ہوجائے گا کہ وہ اپنے شہر کے مسائل کے بارے میں کس سے سوال کریں، لیکن اچانک بلدیاتی انتخابات کے التوا کا اعلان کردیا گیا۔ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کو کم از کم ڈھائی سال قبل ہونا تھا، لیکن مختلف وجوہ کی بنا پر ان انتخابات کو ٹالا جاتا رہا۔ صوبائی حکومت نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بیشتر بلدیاتی اور شہری اداروں پر اپنا کنٹرول بھی حاصل کرلیا، صوبائی حکومت کے ہاتھ میں بلدیاتی اور شہری اداروں کے جانے کے بعد ان اداروں کی کارکردگی میں بہتری ہونے کے بجائے اور خرابی پیدا ہوگئی۔ عملاً یہ شہر ناقابل رہائش بن چکا ہے۔ ایک وقت یہ تھا کہ اس شہر کو دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا تھا، امن وامان سب سے بڑا مسئلہ تھا، اس شہر کی بے امنی کی ذمے دار سیاسی قیادت اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے تھے، اسی دوران شہری اور بلدیاتی اداروں کی تباہی کے عمل کا آغاز ہوا، اس تباہی کی رفتار کو سندھ حکومت نے تیز کردیا۔ اس وجہ سے بااختیار شہری اور بلدیاتی حکومت کا قیام لازمی اور ضروری ہوگیا ہے، لیکن جب سے ملک پر بڑی سیاسی جماعتوں کا کنٹرول ہوا ہے انہیں بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کراچی اور صوبے پر ماضی میں اپنے پورے اختیارات کے ساتھ حکومت کرنے والی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ثابت کردیا ہے کہ ان کی ناقص کارکردگی شہر کی تباہی کی ذمے دار ہے۔ اس پس منظر میں کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور اس کے نتائج پر پورے ملک کی نظر تھی۔ یہ صاف نظر آرہا تھا کہ صوبائی حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات کو اپنے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھ رہے ہیں، ایم کیو ایم عدالت میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کی درخواست لے کر گئی لیکن اسے عدالت سے یہ سہولت نہیں ملی۔ ایم کیو ایم کے وکیل اپنی درخواست کو لے کر عدالت عظمیٰ میں گئے ہوئے ہیں، وہاں سے بھی اس بات کی امید نہیں رہ گئی تھی کہ انہیں سہولت ملے گی۔ اچانک اس سلسلے میں الیکشن کمیشن متحرک ہوگیا، چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے ایک درخواست آ گئی۔ محکمہ موسمیات سے موسم کے بارے میں رپورٹ منگوالی گئی اور بارش کی پیش بینی کا بہانہ کرتے ہوئے الیکشن سے محض تین دن قبل بلدیاتی انتخابات اور قومی اسمبلی کے ایک ضمنی انتخاب کو ملتوی کردیا گیا، بعض سیاسی مبصرین کا خیال یہ بھی ہے کہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج نے تمام بڑی جماعتوں کو دھچکا پہنچایا ہے اور ویسے بھی کراچی میں صوبائی اور وفاقی سطح پر قائم حکومتی اتحاد کی کارکردگی کے بارے میں منفی جذبات پائے جاتے ہیں، حکومت کراچی کے انتخابی نتائج کا دھچکا برداشت نہیں کرسکتی، اس لیے پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہ ہوسکیں۔ بلدیاتی انتخابات کے بارے میں حکومتی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی خواہش پر عمل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے۔ اگر بارش کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں تو یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ بارش کے حوالے سے پورے ملک کے بارے میں پیش گوئی موجود تھی اس بارے میں وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ موسمیات نے پیش بینی کی ہوئی تھی، اس برسات کے موسم میں پنجاب میں ضمنی انتخابات بھی ہوئے ہیں، واضح رہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات ڈھائی سال پہلے ہونے تھے، لیکن اسے مختلف بہانوں سے التوا کا شکار کیا جاتا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کی زور دار عوامی تحریک کی وجہ سے صوبائی حکومت یہ عہد کرنے پر مجبور ہوگئی تھی کہ وہ بلدیاتی اور شہری اداروںکو اختیارات واپس دے گی۔ بلدیاتی انتخابات کے التوا کے فیصلے کو جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف اور تحریک لبیک نے مسترد کردیا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر فوری ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے رات گئے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو منتخب میئر سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری شکایات کا نوٹس نہیں لیا جس میں جانبدار آر او کا تقرر، انتخابی فہرستوں میں گڑبڑ اور سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی تقرری شامل ہیں جب کہ بارش کا بہانہ بنا کر انتخابات ملتوی کردیے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے جمعے کو حقوق کراچی مارچ کا اعلان کیا ہوا تھا۔ انہوں نے اس مارچ کو الیکشن کمیشن کے سندھ میں واقع دفتر پر دھرنے میں تبدیل کردیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے مختلف وجوہ کی بنا پر کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے فرار چاہتے تھے ان کے اس کام میں الیکشن کمیشن نے سہولت کاری کی ہے۔