الیکشن کمیشن نے ساز باز کرکےعوام کو حق رائے دہی سے محروم کیا، سراج الحق

251
vote rights

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے دو روز قبل انھیں ملتوی کر دینا انتہائی جانبدارانہ اور متنازعہ اقدام ہے، الیکشن کمیشن نے حکومتی پارٹیوں سے سازباز کر کے عوام کو حق رائے دہی سے محروم رکھا۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جمہوری ممالک میں جنگ کے دوران بھی انتخابات کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچا، ایسی کون سی ایمرجنسی آ پڑی تھی کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر یکطرفہ فیصلہ کیا، ادارے اپنی مرضی سے بند کمروں میں فیصلے کریں گے، تو عوامی جذبات مزید مجروح ہوں گے، جمہوری عمل کے تسلسل اور عوام کے فیصلوں پر اعتماد کر کے ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں مرکزی ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمران سیاسی جماعتیں آپسی مفادات کی لڑائی میں ملک تباہ ہو گیا، روم جل گیااور نیرو بانسری بجا رہا تھا۔گزشتہ کئی ماہ سے اقتدار کے حصول کے لیے تماشا لگا ہوا ہے اور عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں۔ ملک میں گھنٹوں لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جب کہ اسلام آباد کے ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے حکمران سیاسی شطرنج کے داﺅپیچ کھیل رہے ہیں۔

امیرجماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے مکمل دور ہو گئیں، اگر ایک طرف لوڈشیڈنگ ہے تو دوسری جانب بجلی کے فی یونٹ نرخ آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے ڈیڑھ ارب لینے کے عوض حکومت بجلی کی فی یونٹ قیمت 40روپے تک لے جانے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ غریبوں پر بجلی گرانے کی بجائے حکمران اشرافیہ، سول و ملٹری بیوروکریسی، ججز، اراکین اسمبلی کو سبسڈی کی مد میں اربوں روپے کی مراعات اور مفت بجلی کی فراہمی ختم ہونی چاہیے۔ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوںمیں فی الفور سو روپے فی لٹر کمی کرے، گیس کے نرخ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں35سے 50فیصد کم کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی اقتدار کے حصول کی جنگ میں اس قدر نہ جائیں کہ پہلے سے تباہ حال ملک میں مزید تباہی آئے۔ بار بار کہہ چکے ہیں کہ حکمران سیاسی جماعتیں سنجیدگی کا راستہ اپنائیں۔ لوگوں کے گھر بارشوں اور سیلاب میں بہہ رہے ہیں،حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ڈالر کی بلند پرواز جاری ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ملکی کرنسی آنے والے دنوں میں اپنا وجود ہی کھو دے گی۔ معیشت، سیاست اور معاشرت میں تباہی کی ذمہ داران ماضی اور موجودہ حکومتیں ہیں۔