شام کے مستقبل کا تعین شامی عوام کو ہی کرنا چاہئیے، روسی صدر

255

تہران : روس کے صدر نے ساتویں سہ فریقی سربراہی اجلاس کو شام کے بحران کے حل میں بہت موثر اور تعمیری قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے مستقبل کا تعین شامی عوام کو ہی کرنا چاہئیے،اس میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہئیے۔

ساتو یں سہ فریقی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کے صدرولادیمیر پوتن نے کہا تویں سربراہی اجلاس کا نتیجہ بہت اچھا اور موثر ہوگا اور یہ نہ صرف شام بلکہ پورے مشرق وسطی میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دے سکتا ہے۔

روس کے صدرولادیمیر پوتن نے اس موقع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس پر عمل در آمد اور شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ شام کے مستقبل کا تعین شامی عوام کو ہی کرنا چاہئیے اور اس میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہئیے۔

روس کے صدر نے مزید کہا کہ ہمارے خیال میں یہ بہت اہم ہے کہ ایران، روس اور ترکی جنگ کے بعد شامی عوام کی مدد کے لیے مشترکہ تعاون کر رہے ہیں۔ ولادیمیر پوتین نے شام کی معیشت اور سماجی صورتحال کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیال میں شامی پناہ گزینوں اور بے گھر افراد دوبارہ اپنے ملک میں واپس آجائیں گے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ہمارے مذاکرات کا نتیجہ بہت اچھا اور نتیجہ خیز ہوگا اور یہ شام کے علاوہ پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کا باعث ہو سکتا ہے۔

روس کے صدر نے اپنے ایرانی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ دہشتگردی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام میں اب دہشتگردی اور دھونس و دھمکی میں کمی آئی ہے اور دہشتگرد گروہ داعش کی سرگرمیاں بھی کم ہوئی ہیں اور شام کی حکومت نے کئی علاقوں کا کنٹرول بھی دوبارہ سنبھال لیا ہے۔