انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 216 روپے پر پہنچ گیا

337
Rupee depreciates

کراچی: عالمی مالیاتی ادارے کےساتھ پاکستان کے قرض پروگرام کی بحالی کے معاہدے کےاعلان کے باوجود روپے کی قدر میں بہتری نہ آسکی۔ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر نے ایک بار پھر بلند چھلانگ لگا کر تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن انٹر بینک میں روپےکے مقابلے ڈالر کی قدر میں 5 روپے 6 پیسے کا اضافہ ہوگیا، جس سے ڈالر کی قدر  بڑھ کر 216.01 روپے ہوگئی جبکہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 216 روپے سے زائد پر فروخت ہو رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروباری ہفتے کے پہلے روز مندی کا رجحان دیکھاگیا اور دن کے اختتام پر سرمایہ کاروں کے 98.58 ارب روپے ڈوب گئے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز انڈیکس 42 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح کھو گیا اور 100 انڈیکس 41300 پوائنٹس کی سطح پر  آگیا۔ جس کے بعد کاروباری دن کے اختتام تک 100 انڈیکس گھٹ کر 41367 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 707پوائنٹس کی مندی کے ساتھ کاروبار کا اختتام ہوا اور مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے 98.58ارب روپے ڈوب گئے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے معاہدے کے اعلانات کا مارکیٹ پر ٹھوس اثر نہیں پڑا  جب کہ فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کے بعد ڈالر کی فروخت، زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر، ترسیلات زر اور برآمدات کی مد میں خاطر خواہ رقم نہ آنے کے سبب ڈالر کی قدر میں اضافہ ہورہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہونے تک پاکستانی روپیہ دباؤ کا شکار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔