جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر دھرنا، چیف جسٹس سے سوموٹو ایکشن لینے کی اپیل

182

کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نےچیف جسٹس سے سوموٹو ایکشن لینے کی اپیل  کرتے  ہوئے کہا کہ  کے الیکٹرک کالائسنس منسوخ اور 17سال کا فرانزک آڈٹ کیا جائے، عوام کو کلاء بیک کے 42ارب روپے واپس دلوائے جائیں۔

سخت گرمی میں بد ترین لوڈشیڈنگ، کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اور وفاقی وصوبائی حکومت اور نیپرا کی بے حسی اور کے الیکٹرک کی مسلسل سر پرستی کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر زبردست احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

دھرنے میں شہر بھر سے بجلی سے محروم اور کے الیکٹرک کے ستائے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا، دھرنے کے شرکاء نے کے الیکٹرک انتظامیہ وفاقی و صوبائی حکومت اور نیپرا کے خلاف پُر جوش نعرے لگائے۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کا مسئلہ حل کروائیں اور عوام کو کے الیکٹرک  کے مظالم،اووربلنگ و لوڈشیڈنگ سے نجات دلائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بدترین لوڈ شیڈنگ،اوور بلنگ،عوام سے لوٹ مار اور معاہدے کے مطابق پیداواری صلاحیت نہ بڑھانے اور ترسیلی نظام کو بہتر نہ کرنے پر کے الیکٹرک کا لائسنس فوری منسوخ کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی  کا کہنا تھا کہ  17سال میں کے الیکٹرک کو فیول ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کھربوں روپوں دیئے جانے کا فارنزک آڈٹ کرواکر عوام کے سامنے رپورٹ پیش کی جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ  بالخصوص بائیکو کمپنی سے حاصل کردہ فیول اس کی مد میں لیے جانے والے فیول ایڈجسٹمنٹ کو تحقیقات کا حصہ بنایا جائے کیونکہ کے الیکٹرک اور بائیکو کمپنی دونو ں آف شور کمپنی ابراج گروپ کی ملکیت رہی،وفاقی و صوبائی حکومتیں،نیپرا اور حکمران جماعتیں کے الیکٹرک کی سرپرستی بند کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ  اس نجی کمپنی کو ماہانہ اربوں روپے کی سبسیڈی دینے کے بجائے اس سے کراچی کے عوام کے کلاء بیک میں واجب الادا 42ارب روپے واپس دلوائے جائیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ  کے الیکٹرک نے عوامی مفاد کے حق میں فیصلوں کے خلاف عدالتوں سے جو اسٹے آرڈرز لیئے ہوئے ہیں ان سب کو ختم کیا جائے۔