!عجب ہے یہ دیس

297

انسانیت نے ہمیشہ ہی معروف کو پسند کیا ہے اور منکرات کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے مثال کے طور پر دنیا میں کہیں بھی جھوٹ بولنے کو پسند نہیں کیا جاتا اسی طرح جرائم ہیں جن کو دنیا نے کبھی اچھا نہیں سمجھا ہے انسان دوستی کا دم بھی بھرتا رہے اور اس کی آڑ میں دوست کے دشمن سے مل جائے اور دوست اپنے دوست کو ہر طرح کا نقصان پہنچانے کے درپہ ہوجائے اسی کو غداری کہا جاتا ہے یہ صفت وفاداری کی ضد ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا ہر زمانے میں کڑی سے کڑی دی جاتی رہی ہے چاہیے وہ بادشاہوں کا زمانہ ہی کیوں نہ ہو جب بھی کسی بادشاہ کو اپنے کسی منصب دار کے بارے میں معلوم ہوجاتا کہ وہ غداری کا مرتکب ہوا ہے تو وہ اس کو ایسی عبرتناک سزا دیتا کہ پھر کوئی ایسا کرنے کی جرأت نہ کرتا۔ غداری کے اس فعل کو اللہ تعالیٰ نے بھی انتہائی ناپسند دیدہ قرار دیا ہے یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مرد یا عورت نکاح کے بعد اپنے شریک حیات کے علاوہ وہی تعلق کسی اور کے ساتھ قائم کرلے تو اس کی سزا رجم ہے۔ اور ایسے لوگوں پر رحم کھانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
یہ بات اس تناظر میں کہنے کی ضرورت پیش آئی کہ آج کل سابق صدر اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کو پاکستان واپس آنے کی اجازت دی جائے یا نہ دی جائے اس موضوع پر بحث ہورہی ہے۔ جیسے گزشتہ دن ہی سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن میں اس موضوع پر گرماگرم بحث ہوئی۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پرویز مشرف کو اگر پاکستان لایا جاتا ہے تو پھر اس ملک کی جیلوں کے دروازے کھول دیے جائیں اور عدالتیں بندکردی جائیں کیونکہ پھر ان کی ضرورت نہیں اس بات کی تائید پورے سینیٹ میں صرف نون لیگ کی عرفان احمد صدیقی نے کی باقی تمام بڑی جماعتوں نے سابق صدر کی پاکستان واپسی کی حمایت کا اظہار کیا اور اس کے حق میں دلیلیں دیں اور سب سے بڑھ کر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کہ پرویز مشرف پاکستان کا شہری ہے اور بیمار ہے، اگر آنا چاہے تو اسے آنے دیں۔
جنرل پرویز مشرف کے جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں کئی طرح کے سنگین جرائم درج ہیں جن میں سب سے بڑا وہی جرم ہے جس کا ذکر اوپر کی سطور میں کیا گیا ہے اس کے علاوہ آئین شکنی، اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس کی جبری معزولی ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور سیکڑوں افراد کی امریکا حوالگی اور اس خدمت کے عوض لاکھوں ڈالروں کی وصولی جس کا اعتراف موصوف نے خود اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ جنگ کے زمانے میں بھی دشمن ملک کے سفیر کو گرفتار کرنا یہ ایک انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے مگر سابق صدر نے یہ حد بھی امریکا کی محبت میں پھلانگ ڈالی۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ کس طرح ایک جنرل امریکی صدر جارج واکر بش کی ایک فون کال پر وہ سجدہ ریز ہوجائے گا اور پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے کی اجازت دے دے گا حالانکہ امریکی اعلیٰ حکام نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہمیں اس طرح کی تابع داری کی امید ہر گز نہیں تھی۔ اس کے بعد ان کی دوستی صدر بش سے اتنی زیادہ بڑھی کہ امریکی ان کو مشرف نہیں بلکہ بشرف کہہ کر پکارنے لگے۔ کوئی بھی ملک اپنی سرحدوں کو کسی دوسر ے ملک کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے کی اجازت دے اور پھر ایسی اجازت جس میں اپنے شہریوں کی جان ومال سب کچھ داؤ پر لگ جائے تو اس طرح کی حرکت کا صدور کوئی انتہائی بزدل اور ملک کا غدار ہی کرسکتا ہے۔ یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ سابق صد ر پر غداری جیسا سنگین جرم عائد کرکے عدالت نے ان کو سزائے موت تک سنا دی ہے۔ لیکن وہ صرف دو مرتبہ عدالت پیش ہوئے اور پھر علاج کے بہانے بیرون ملک فرار ہو گئے۔ اگر وہ اتنے بہادر تھے تو ملک میں رہ کر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرتے مگر ہر آمر وقت کی طرح انہوں نے بھی عافیت ملک سے فرار ہوجانے میں ہی سمجھی۔ آج اگر سینیٹ میں سابق صدر کے ملک میں آنے کی اجازت پر اصرار کرنے اور اس کے حق میں دلائل دینے والی جماعتیں موجود ہیں تو اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ ان جماعتوں نے آمروں کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ یہ عوامی جلسوں میں جمہوریت جمہوریت کا ورد کرتی رہتی ہیں مگر نام کو بھی جمہوریت ان کے اپنے اندر موجود نہیں ہے۔ ان کے اندر یہ بھی صفت ہے کہ یہ اقتدار میں آتی بھی ہیں ڈیل کے ذریعے اور جب یہ آقاؤں کی توقعات پر پورا نہیں اترتیں تو اسٹیبلشمنٹ ان کو لات مار کر اقتدار سے باہر نکال دیتی ہے اس کے بعد بڑی بے صبری سے یہ دوسری ڈیل کے لیے کوشاں ہوجاتے ہیں مثال شہباز شریف کی موجود ہے۔
30 نومبر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی قائم ہوئی مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی نے بھی اپنے سیاسی سفر کا آغاز جنرل ایوب خان کے زیر سایہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ان کو ڈیڈی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ابتدا میں سوشلزم کے علمبردار رہے مگر اس کے بعد اسلامی سوشلزم کا نعرہ بھی لگایا۔ انہوں نے روٹی کپڑا اور مکان کا خوشنما نعرہ دیا مگر عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان نہ وہ خود سے سکے اور نہ ان کی جماعت اب تک دے سکی ہے وہ جمہوریت جمہوریت کہا کرتے تھے مگر وہ اوّل تا آخر ایک جاگیردار تھے انہوں نے کبھی اپنی جماعت کے اندر الیکشن نہیں کرائے یہی سلسلہ آج تک جاری ہے اور اس بات کا کوئی امکان موجود نہیں ہے کہ قیادت کے لیے جمہوری انتخابات جماعت کے اندر ہوں گے۔ اسی طرح ملک کی دوسری بڑی پارٹی مسلم لیگ نواز شریف ہے۔ اس کے بانی میاں نواز شریف ہیں جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانے میں وزیر خزانہ بنے اس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بنے، انہوں نے بھی آمریت کے سائے میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا یہ 1988 کا زمانہ تھا جب انہوں نے ملک بھر کے چودھریوں اور سرمایہ داروں کا ایک جتھا جمع کرکے مسلم لیگ ن بنائی اپنے قیام سے لے کر آج تک اس جماعت کی زمام کار دونوں بھائیوں کے پاس ہے ان کی جماعت ایک رجواڑہ ہے جہاں کوئی دوسرا راجا نہیں بن سکتا باقی ہر منصب اس کے لیے ہوسکتا ہے۔ یہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو لگاتے ہیں مگر ووٹر کو عزت دینے کو تیار نہیں ہیں ان کے اندر عوام یعنی ووٹر کی ضرورت صرف جلسے جلوسوں تک
ہے ورنہ عوام ان کی ترجیح میں نہ کل تھے نہ آج ہیں بلکہ ان کی ترجیح میں سرمایادار اور چودھری ہیں جن کو صحیح معنوں میں یہ عزت دیتے ہیں۔ اب ذرا مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں ملک کی سب سے بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت جماعت علماء اسلام ہے۔ 1984 سے اب تک اس جماعت کی قیادت مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے۔ جمعیت علماء اسلام میں بھی نام کو جمہوریت موجود نہیں۔ عرصہ دراز سے مولانا فضل الرحمن امارت کی کرسی پر براجمان ہیں اور ان کے بعد ان کے صاحبزادے کی باری ہے۔ اس جماعت کا اب کردار رینٹ اے کار کی طرح رینٹ اے پارٹی ہے جس جماعت کو بھی حکومت مخالف دھرنے، ریلی اور جلسے کرنے ہوں یا کوئی مہم چلانی ہو مولانا ان کو کارکنان کا ایک جم غفیر فراہم کردیتے ہیں اور اس کرایا وصول کرلیتے ہیں۔ ماضی قریب میں اس کی مثال آزادی مارچ، مہنگائی مارچ اور پی ڈ ی ایم وغیرہ وغیرہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون مولانا سے جلسے دھرنے اور مارچ کرائے پر لیتے رہے ہیں کیونکہ دونوں جماعتوں کے پاس ووٹر تو ہیں مگر سڑکوں پر مظاہرے کرنے والے کارکنان نہیں ہیں۔ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا بھی بھانڈا پھوٹ چکا ہے بائیس سال تک عمران خان اقتدار کے لیے جدوجہد کرتے رہے بالآخر ایک ڈیل کے نتیجے میں ان کو اقتدار حاصل ہو ہی گیا مگر بڑے آقا اور چھوٹے آقا کی نافرمانی کی وجہ سے وہ بھی اقتدار سے الگ کردیے گئے اور اب دوبارہ کسی ڈیل کا رستہ دیکھ رہے ہیں اس طرح یہ بھی آمریت کی پیدا وار ہیں عمران خان نے بھی بائیس سال میں کوئی پارٹی الیکشن نہیں کرائے ہیں وہ بھی تاحیات پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ لیکن اس موقع پر اگر جماعت اسلامی کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ سخت ناانصافی ہوگی۔ اس ملک کی واحد سیاسی اور مذہبی جماعت ہے جو 1943 سے یعنی اپنے قیام سے لے کر اب تک حقیقی جمہوری طریقے پر اپنا سیاسی سفر جاری رکھے ہوئے ہے مگر ظاہر ہے سورج بے نور آنکھوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ مگر عجب ہے یہ دیس کہ جہاں غداروں کو عزت ملتی ہے۔ کوئی غدار لندن میں بیٹھ کر ملک کی قسمت کے فیصلے کرتا ہے کوئی دبئی میں بیٹھ کر سازش کرتا ہے۔ کوئی ملک کی سرحدیں بیچ کر دبئی فرار ہوجاتا ہے۔