!مشکل اور سخت فیصلوں کا نشانہ عوام ہی ہیں

275

وفاقی بجٹ ہر سال قومی اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں مل کر اس کی نوک پلک سنوار کر اسے ملک کے معاشی نظام سے وابستہ طبقوں کی مشاورت کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے، اسلام آباد ملک کا دارالحکومت ہے اور اس لحاظ سے یہ اہم شہر ہے جہاں سفارت خانوں سمیت ملک کے تاجروں، صنعت کاروں اور ان کی تنظیموں کے علاوہ فیڈریشن اور تاجروں کے چیمبرز بھی عقابی نگاہوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، تاجروں نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی ہے کہ وہ اس ملک کی ترقی، خوشحالی اور ملکی سلامتی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں مگر حکومت ان پر اتنا ہی بوجھ ڈالے جس قدر یہ برداشت کرنے کے قابل ہیں، حالیہ بجٹ اور اس میں دی جانے والی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لیا ہے محسوس یہ ہورہا ہے کہ جہاں چھوٹے تاجروں پر فکس ٹیکس ایک بہتر فیصلہ ہے وہیں کچھ شعبے ایسے ہیں جہاں بوجھ ان کی سکت سے زیادہ ہی ڈال دیا گیا ہے اس میں رئیل اسٹیٹ کا شعبہ سر فہرست ہے۔
حکومت کی طرف سے مالی سال 2022-23ء کا وفاقی میزانیہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جارہا ہے بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن اب جو چیزیں آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہیں ان سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے تمام مشکل فیصلے عوام پر بوجھ ڈالنے کے حوالے ہی سے کیے ہیں۔ اگر مشکل اور سخت فیصلوں کا نشانہ عوام ہی کو بنانا ہے تو یہ کام کسی سے بھی کروایا جاسکتا ہے اس کے لیے ماہرین کی کیا ضرورت ہے۔ کہنے کو ہمارے وفاقی وزیر خزانہ عوامی مالیات میں ڈاکٹریٹ جیسی اعلیٰ ترین ڈگری کے حامل ہیں لیکن ان کی طرف سے معیشت کو سدھارنے کے نام پر جو اقدامات کیے جارہے ہیں انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل اور مشکلات سے آگاہ ہی نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں ریلیف دینے کے لیے کوئی پالیسی ان کے پاس ہے۔ یہ سب کچھ تو کوئی ان پڑھ یا نیم پڑھا لکھا بھی کرسکتا ہے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سخت فیصلوں کے ذریعے ملک کو معاشی بحران سے نمٹنے کے قابل بنائیں گے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہماری معیشت اس وقت جس بحرانی کیفیت سے گزر رہی ہے اس میں حکومت پر بہت دبائو ہے اور اس صورتحال میں عوام کو بہت زیادہ ریلیف فراہم نہیں کیا جاسکتا لیکن حکومت کی طرف سے جو اقدامات سامنے آرہے ہیں ان سے مراعات یافتہ طبقہ ایک بار پھر مستفید ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور عوام کی مشکلات بھی بڑھتی نظر آرہی ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحادی حکومت کے اقتدارمیں آنے پر دو راستے تھے، پہلاراستہ تھا الیکشن کرائیں اور معیشت کو ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہونے کے لیے چھوڑ دیں جبکہ دوسرا راستہ یہ تھا کہ پہلے اقتصادی چیلنجز سے نمٹا جائے۔ ہم نے پاکستان کو معاشی دلدل سے بچانے کا انتخاب کیا اور پاکستان کو پہلے سامنے رکھا۔ شہباز شریف کا یہ کہنا درست ہے کہ متمول طبقہ بوجھ بانٹ کر قومی فرض پورا کرے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک میں متمول طبقات بے حسی کے جس درجے پر فائز ہوتے ہیں وہاں انہیں قومی فرائض کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ یہ تو حکومت کا کام ہے کہ وہ متمول طبقے کو ملنے والی مراعات اور سہولتوں کو اگر مکمل طور پر ختم نہیں بھی کرسکتی تو اس میں واضح کمی کرے۔ وفاقی میزانیے کے بارے میں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ پہلا بجٹ ہے جس میں معیشت کی بحالی کا منصوبہ ہے۔ حکومت نے کم آمدنی والے اور تنخواہ دار طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی، حکومت نے یہ فیصلہ غربت کے خاتمے کے مقصد سے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلی معاشی استحکام پہلاقدم ہے۔ اتحادی حکومت معاشی خود کفالت حاصل کرنا چاہتی ہے ہماری قومی سلامتی کا معاشی انحصار سے بہت گہراتعلق ہے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں اور قوم اس معاملے میں وزیراعظم اور ان کی حکومت کے ساتھ بھی کھڑی ہے لیکن عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ معاشی استحکام اور بہتری کے نام پر ہمیشہ غریبوں ہی سے قربانیاں کیوں لی جاتی ہیں اور مراعات یافتہ طبقات پر حکومت اپنی عنایات کا سلسلہ محدود کیوں نہیں کرتی؟
عوام کی فلاح و بہبود کے دعوے تو ہر حکومت کی طرف سے کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر ایسے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں جن سے عام آدمی کی زندگی میں سدھار آئے اب وفاقی وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ وہ رئیل اسٹیٹ بروکرز، بلڈرز، ہائوسنگ سوسائٹی ڈویلپرز، کار ڈیلرز، ریسٹورنٹس اور سلونز وغیرہ کو چند ماہ میں ’مشاورت کے ساتھ‘ ٹیکس کے دائرہ کار میں لائیں گے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم آہستہ آہستہ لاکھوں دکان داروں کو ٹیکس نیٹ میں لارہے ہیں وزیر اعظم کے مشیر برائے اصلاحات سلمان صوفی نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اب رئیل اسٹیٹ، بلڈرز، ہائوسنگ سوسائٹی ڈویلپرز اور دوسرے شعبوں کو ٹیکس دائرہ کار میں لانا چاہتے ہیں۔ بہت اچھی بات ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھنا چاہیے اور ہر شعبے کو اس کا حصہ بننا چاہیے لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ چھوٹے دکان داروں کو تو ٹیکس نیٹ میں لے آیا جائے گا لیکن جو بڑے مگرمچھ ٹیکس نیٹ کو توڑ کر نکل جاتے ہیں ان کا کیا علاج کیا جائے گا؟ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے سپر ٹیکس کے نام سے ایک اچھا اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کے لیے فول پروف منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے موجودہ حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے۔