لوڈشیڈنگ کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو کے الیکٹرک آفس پر دھرنا دیں گے، حافظ نعیم

229
incompetence

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے جس نے عوام کا جینا مشکل بنادیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف شہری روزانہ کی بنیاد پر احتجاج  کے لئے سڑکوں پر نکل رہے ہیں، لیکن وفاقی اور صو بائی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی.

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سوا تمام پارٹیاں کے الیکٹرک کو سپورٹ کر رہی ہیں، اب کراچی کو سب سے کم بجلی فراہم کی جارہی ہے، سہانے خواب دیکھا کر کے الیکٹریک پرائیوٹائز کی گئی، گورنمنٹ کے خزانے میں بھی اضافہ نہیں ہوا اور عوام مہنگی بجلی خرید رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک ریوینیو کما رہی ہے، سبسڈی بھی لے رہے ہیں حکومت سے، لیکن پیداواری صلاحیت نہیں بڑھا رہے، نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی کرتا ہے، چیئر مین نیپرا صرف کہتے ہیں کہ کراچی کو مہنگی بجلی دی جارہی ہے، مگر کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا پانچ سال سے سپریم۔کورٹ میں کیس چل رہا ہے، سابق چیف جسٹس نسلہ ٹاور گرانے کے بجائے اگر کے الیکٹرک پر توجہ دیتے تو آج لوڈ شیڈنگ کا یہ حال نہیں ہوتا، ملک کا وزیر پانی بجلی کا کہتا ہے کہ ملک ٹھیک چل رہا ہے، مگر کراچی کو کیا دیا جاتا ہے وہ کسی کو غرض نہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم ٹیکس اور بل دیتے ہیں مگر اس کے باوجود کراچی والوں کے ساتھ  نا انصافی کی جارہی ہے، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ہم سے ریٹ بہت زیادہ لئے جاتے ہیں کیوں لیتے ہیں، تو پھر ہم کیوں نہ سمجھیں کے سب ملے ہوئے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس شہر کا مسئلہ حل کروایا جائے، اس وقت گیس کی سپلائی کے الیکٹرک کو بغیر کسی معاہدے کے فراہم کی جاتی ہے کیوں،

انہوں نے کہا کہ آج کے الیکٹرک کے IBCsاور دیگر 20مقامات پر دھرنا دیں گے، اگر پھر بھی لوڈشیڈنگ کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو کل کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر دھرنا دیں گے۔