جوہری معاہدے پر ایران امریکا مذاکرات دوحہ میں شروع

209
nuclear deal

دوحہ: ایرانی 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں، امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات دوحہ میں شروع ہوچکے ہیں۔

ایران کی جانب سے امریکہ سے براہ راست ملنے اور مذاکرات کرنے سے انکار کے بعد یورپی یونین سفارکاروں کے ساتھ ان مذاکرات کا انعقاد کیا گیا ہے۔امریکہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ میلے اور ایران کے علی باقری 2015 کے معاہدے کی واپسی پر ویانا میں یورپی یونین کی ثالثی میں ہونے والی ایک سال سے زائد بات چیت کے بعد ان دوحہ میں موجود ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے، دوحہ میں ہونے والے مذاکرات بالواسطہ طور پر ہوں گے، وفود الگ الگ کمروں میں اور ثالثوں کے ذریعے بات چیت کریں گے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان پیٹر اسٹانو نے کہا کہ قطری دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات ویانا مذاکرات کو  ان بلاک کرنے کے عمل کا آغاز ہیں، ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت مپ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔