جی سیون ممالک نے روسی توانائی ذرائع پر پابندیوں کیلیے سر جوڑ لیے

165

برلن : جی سیون ممالک نے روس کے ایندھن ذخائر کی برآمد کی عالمی قیمتوں پر پرائس کیپ کے لیے جانچ پڑتال پر اتفاق کیا ہے تاکہ ماسکو کے لیے یوکرین جنگ کے لیے سرمایہ جمع کرنا مشکل ہوجائے۔

اسی طرح جی سیون رہنماؤں نے عالمی سطح پر خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے 5 ارب ڈالرز کی فراہمی کا وعدہ بھی کیا ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ہونے والی جی سیون ممالک کی کانفرنس میں یوکرین کی جنگ اور اس کے اقتصادی اثرات کا غلبہ رہا۔یورپی یونین کی جانب سے عالمی شراکت داروں سے مل کر روسی توانائی ذرائع کی قیمتوں کی روک تھام کے طریقوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

جی سیون ممالک کی جانب سے پرائس کیپ کو روس کو یوکرین جنگ سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کا ذریعہ سمجھا جارہا ہے، جس کے تحت روسی توانائی ذرائع کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا جائے گا، تاکہ روس کی خام تیل اور گیس کی برآمد کم ہوجائے۔

روس کی جانب سے ابھی مختلف ممالک کو رعایتی قیمت پر خام تیل فروخت کیا جارہا ہے، مگر جی سیون ممالک ایسے طریقوں پر غور کریں گے جن کے تحت مالیاتی سروسز کی جانب سے روسی خام تیل کی شپنگ پر زیادہ سے زیادہ قیمت لی جائے۔

جی سیون رہنماؤں نے روس سے سونے کی درآمد پر پابندی کی مہم کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔برطانیہ، امریکا، جاپان اور کینیڈا نے 26 جون کو روس سے سونے کی درآمد پر پابندی پر اتفاق کیا تھا جبکہ یورپی یونین نے اس پر کچھ تحفظات ظاہر کیے تھے۔عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کے لیے جی 7 ممالک نے 5 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے جس میں سے ڈھائی ارب ڈالرز امریکا فراہم کرے گا۔