’’نیب‘‘ جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

246

اتحادی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی پہلے قدم کے طور پر نیب قوانین میں کچھ اس انداز سے ترامیم کر لی ہیں کہ اب نیب کا ادارہ سرکس کا شیر بن کر رہ گیا ہے۔ احتساب کی اصطلاح اب لغت میں ملے گی یا قصے کہانیوں میں سنائی دے گی۔ آئیڈیل، بے لاگ اور بے رحم احتساب کبھی ممکن ہی نہیں ہوا مگر احتساب کے نام پر ایک ایسا خول دور کسی جنگل میں چلنے والی ہوا سے یوں بجتا رہا کہ اس کی آواز وقتی طور پر بدعنوان عناصر کو ایک انجانے خوف میں مبتلا رکھتی رہی۔ پاکستان میں بدعنوانی ایک ایسی سائنس اور تکنیک ہے جو سخت اور مشکل ترین ماحول میں اپنی کاریگری دکھا جاتی ہے۔ اس سائنس کے ماہرین غیر معمولی اور دلیر لوگ ہوتے ہیں۔ وہ بااثر اور سخت کوش ہوتے ہیں۔ وہ ضرورت مند نہیں بلکہ یہ ان کا شوق اور جنون ہوتا ہے۔ وہ بدعنوانی کے نت نئے مظاہرے کرکے اور انداز اپنا کر حقیقت میں اپنی مہارت کا امتحان لیتے ہیں۔ ضرورت مند وہ ہوتے ہیں وہ جو آئے روز تھانوں کچہریوں میں چھوٹی چھوٹی اشیائے خورونوش یا جیب کترنے کے الزام میں دھرلیے جاتے ہیں۔ بدعنوانی کے بڑے کرداروں کی دولت بے حد وحساب ہوتی ہے۔ ان کے خزانے کئی براعظموں پر محیط ہوتے ہیں پھر بھی وہ ہر نئی واردات یوں کرتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑا مجبور اور ضرورت مند کوئی اور نہ ہو۔ ایک واردات ابھی ختم نہیں ہوتی وہ اگلی کی منصوبہ بندی میں جُت جاتے ہیں۔
پاکستان کی ماضی قریب کی چند دہائیوں کا مطالعہ کریں تو بس یہی ہوش رُبا حقائق سامنے آتے ہیں۔ ایک دور تھا کہ بدعنوانی معاشرے کا ناسور سمجھا جاتا تھا ایسے لوگ نشان زدہ تصور ہوتے تھے۔ معاشرہ مجموعی طور پر ایسے
کرداروں کو پسند نہیں کرتا تھا۔ چند عشروں میں بدعنوانی ایک مہارت، ایک سائنس اور ایک اضافی ادا اور خوبی بن گئی تو سب کچھ اُلٹ پلٹ ہوگیا۔ قدیم تصورات متروک ہوگئے اور بدعنوانی قانون کی نظر میں کوئی قابل تعزیر جرم رہا نہ عوام کی نظر میں قابل نفرت حرکت۔ بس اقدار کی اس تبدیلی نے بدعنوان عناصر کو دیدہ دلیر اور معاشرے کا رول ماڈل بنا دیا اور اس کے خلاف نعرہ لگانے والوں کو تنہا کرنا شروع کیا۔ اقدار اور مزاجوں کی اس تبدیلی سے احتساب کے نعروں کے پیچھے عوامی اخلاقی دبائو کمزور ہوتا چلا گیا۔ ملک میں احتساب کا عمل ایک رومانس اور ایک نظریہ ونعرہ رہا ہے۔ یہ نعرہ کبھی عمل کی شکل میں ڈھل تو نہ سکا مگر فضائیں اس کی گونج سے کبھی خالی نہیں رہیں۔ فوجی حکمرانی کے دور میں اس نعرے کی گونج زیادہ قوت سے سنائی دیتی رہی اور سول حکومتوں میں یہ آواز دھیمی محسوس ہوتی رہی مگر ہر دو ادوار میں نتیجہ ایک ہی برآمد ہوا یعنی ’’ڈھاک کے تین پات‘‘۔ احتساب کے نام پر جاری ایک دور انجام کو پہنچتا رہا تو صاف نظر آتا کہ حقیقی احتساب کی منزل ہنوز دور است۔
جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر نوے دن میں انتخاب کا وعدہ کیا تو قومی اتحاد کے اندر سے پہلے احتساب پھر انتخاب کی آوازیں بلند ہوئیں۔ ان میں سب سے بلند آہنگ آواز ائر مارشل اصغر خان کی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے لیے یہ نعرہ نعمت غیر مترقبہ ثابت ہو اور وہ انتخابات کے وعدے سے دست بردار ہوتے چلے گئے اور یوں احتساب ہوا نہ انتخاب مگر جنرل ضیاء الحق گیارہ برس حکمرانی کرگئے۔ ان کے بعد جمہوریت کی ایک شب گزیدہ سحر طلوع ہوئی تو اس کے ساتھ ہی احتساب کا نعرہ پوری قوت سے سنائی دینے لگا۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد جمہوری صبح طلوع ہوئی تو اس کے دو اہم سیاسی اجز ا بھٹو اور اینٹی بھٹو تھے۔ جلد ہی یہ تقسیم بھٹوز اور شریف خاندان یا مسلم لیگ ن کی سیاست کی شکل اختیار کر گئی۔ مسلم لیگ ن کے رنگ ڈھنگ اینٹی بھٹو ہی رہے مگر وہ عملی طور پر ازخود ایک سیاسی طاقت بن گئی۔ اس طرح دوجماعتی نظام وجود میں آیا۔ اس دو جماعتی نظام کے ساتھ کرپشن کی رنگا رنگ کہانیاں وابستہ ہو کر رہ گئیں اور انہی کہانیوں سے احتساب کے نعروں کو طاقت اور توانائی ملتی چلی گئی۔ اس دوران نوے کی دہائی میں دو بڑی سیاسی جماعتیں حکومت میں آکر ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کرتی رہیں۔ دونوں یوں جم کر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں یہاں تک کہ جنرل مشرف نے اقتدار سنبھال کر دونوں جماعتوں کو دس سال کے لیے اقتدار کی راہداریوں سے دور کر دیا۔ اسی دوری کے لمحوں میں دونوں جماعتوں کو یہ خیال آیا کہ احتساب کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو کر حقیقت میں دونوں نے کسی اور کی جنگ لڑی تھی۔ یہ خیال پختہ ہوتے ہی دونوں جماعتوں کی قیادتوں نے عالم جلاوطنی میں لندن کے دریائے ٹیمز کے کنارے میثاق جمہوریت کے نام سے معاہدہ کیا۔ جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف احتساب کے نام پر استعمال ہونے سے احتراز برتنے کا وعدہ کیا۔ اس اکٹھ کے بعد عمران خان نے احتساب کا نعرہ زیادہ بلند آہنگی سے لگانا شروع کیا۔ جنرل مشرف نے بھی احتساب کا بھاری پتھر اُٹھانے کی کوشش کی مگر وہ جلد ہی اسے چوم کر چھوڑ دینے ہی میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ انہوںنے احتساب زدگان کی اچھی خاصی تعداد کو کسی مخصوص لانڈری سے دھودھا کر اپنے اقتدار کی بیساکھی کے طور پر استعمال کیا۔ اس دور میں احتساب کے سخت قوانین بناکر یہ بارِ گراں آنے والی نسلوں کے کندھوں پر ڈال دیا۔
احتساب کے نعرے کی بنیاد پر دوعشرے تک سیاست کرنے والے عمران خان اقتدار میں آئے تو بیوروکریسی نے پہلے دن ہی قلم اور کام چھوڑ ہڑتال کر دی۔ چھے آٹھ مہینے تو عمران خان نے انہیں سمجھانے میں صرف کیے کہ وہ طاقتور کا احتساب کریں گے بیوروکریسی تو کمزوروں کی فہرست میں آتی ہے۔ اس یقین دہانی کے بعد خدا خدا کرکے بیوروکریسی دوبارہ قلم وقرطاس تھامنے پر آمادہ ہوئی۔ جب بھی دنیا میں کہیں بدعنوان عناصر کو پھانسی کی سزا ملتی تو ہمارے عوام دل ہی دل میں ایسے ہی احتساب کی تمنا کرتے۔ جب بھی کوئی سخت گیر حکمران بدعنوانوں کا قلع قمع کرتا تو لوگ ایک حسرت بھری آہ کرکے اس کی طلب اور تمنا کرتے مگر حالت یہ تھی کہ پورا معاشرہ بدعنوانی کو برائی یا قبیح فعل سمجھتا ہی نہیں تھا۔ اب نیب قوانین میں ترامیم کے بعد قومی احتساب بیورو کا رسمی کردار بھی ختم ہوتا نظر آتا ہے اور شاید اب احتساب کی اصطلاح بقول فراز سوکھے ہوئے پھولوں کی طرح خوابوں اورکتابوں میں ملے۔