کے الیکٹرک کی اجارہ داری کب تک

202

کے الیکٹرک کراچی کے عوام کا خون نچوڑنے کے ساتھ ساتھ اب ان کا پسینہ بھی نکال رہی ہے اسے لگام دینے کے بجائے اس کی سبسڈی میں اضافہ کیا جاتا ہے اور بجلی کے نرخ بھی بڑھانے کی منظوری دی جاتی ہے۔ اب تو ان علاقوں میں بھی باقاعدہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جو مکمل بل ادا کرنے کے اعتبار سے کلیئر یا لوڈشیڈنگ سے مستثنٰی قرار دیے جاتے ہیں اور کے الیکٹرک کی جانب سے جو جواب دیا جاتا ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے ترجمان یا افسران یہ کہتے ہیں کہ معمول کی دیکھ بھال کا کام ہو رہاہے۔ اتوار کے روز صبح سے بجلی بند کر کے گلستان جوہر بلاک 15,14 اور اردگرد کے علاقوں کے لوگوں کو بتایا گیا کہ ہولناک بارش آنے والی ہے اس لیے یہ لوڈشیڈنگ نہیں ہے ہم تاروں اور کھمبوں کی مرمت کر کے کرنٹ سے محفوظ بنا رہے ہیں۔ اور شام ساڑھے سات بجے کے لگ بھگ بجلی بحال کی گئی۔ لیکن اگلے دن بھی تین مرتبہ دو دو گھنٹے کے لیے بجلی بند کر دی گئی یہی سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا شہر کے بیشتر علاقوں ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، محمد علی سوسائٹی، بہادر آباد سمیت نصف شہر تاریکی میں ڈوبا رہا اور کے الیکٹرک سوتی رہی۔ اگر حکومت کو سبسڈی دینا ہی ہے تو عوام کو 80 ارب روپے کی سبسڈی دے۔ انہیں اشیائے خورونوش اور دوائیں سستی دے۔ اسکولوں کی فیس ادا کرے کے الیکٹرک کو سبسڈی کیوں دی جاتی ہے جو ایک یونٹ بجلی بھی پیدا نہیں کرتی۔ پیر اور منگل کے روز عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور راستے بند کر دیے۔ اس سے ٹریفک جام ہو گیا۔ لوگوں کا احتجاج درست لیکن اس کا نقصان بھی عوام کو ہو تو یہ مناسب نہیں اپنے احتجاج کا رخ کے الیکٹرک اور اس کے سرپرستوں کی طرف رکھا جائے۔ یہ ادارہ کھربوں روپے لے کر فرار کی تیاری کر رہا ہے۔ کوئی پکڑنے والا نہیں۔ یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ کے الیکٹرک نے ہر حکمران پارٹی کو کسی نہ کسی طرح خوش کر رکھا ہے، اس کی پشت پر اسی لیے سرکاری اور سرکاری ادارے ہوتے ہیں۔ کیا حکمران چاہتے ہیں کہ لوگ توڑ پھوڑ کریں پھر ان کی بات سنی جائے۔