غمناک……………اقبال

148

نہ ہے ستارے کی گردش، نہ بازیِ افلاک
خودی کی موت ہے تیرا زوالِ نعمت و جاہ

اْٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبّت، نہ معرفت، نہ نگاہ!