وزیر خزانہ کی ایک اور دھمکی

194

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قوم کو ایک اور دھمکی دیدی ہے کہ اگر کرنٹ اکائونٹ خسارہ کنٹرول نہ ہوا تو ملک ڈیفالٹ ہوجائے گا۔ رواں سال ملکی تجارتی خسارہ تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہوگا۔ اس دھمکی کے بعد انہوں نے ایک اور ہولناک خبر سنائی ہے کہ پاکستان تمام عالمی مالیاتی وعدوں کو پورا کرے گا۔ پاکستان میں اب تک حکمران صرف سبز باغ دکھایا کرتے تھے اور ہمیشہ ان کی رپورٹیں سب اچھا ہے کی ہوتی تھیں اور جب ان کے اقتدار کا سورج غروب ہوتا تو پتا چلتا کہ ملک دیوالیہ ہوگیا ہے۔ آج تک پاکستان میں کوئی حکمران ایسا نہیں آیا جو یہ بتائے کہ مجھے خزانہ بھرا ہوا ملا۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہترین تھی۔ معیشت ترقی کررہی تھی پاکستان ایشین اور عالمی ٹائیگر بننے والا تھا کہ ہم نے ملک کا اقتدار سنبھالا اور سب تباہ کردیا۔ پی ڈی ایم کی حکومت بھی وہی کررہی ہے جو پی ٹی آئی نے چار سال تک کیا۔ سارے غلط فیصلوں کا بوجھ اور الزام سابق حکمرانوں پر ڈال دیا اور اب پی ڈی ایم والے پی ٹی آئی پر الزام عائد کررہے ہیں۔ نہ پی ٹی آئی نے عوامی مفاد میں کام کیا نہ پی ڈی ایم والوں کا ایسا کوئی ارادہ لگ رہا ہے، بلکہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پی ڈی ایم والے آئی ایم ایف کے تمام مطالبات پورے کرکے عوام کی کمر توڑ کر یہ کہیں گے کہ پی ٹی آئی نے غلط معاہدہ کیا تھا۔ کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل جائے۔ یہ کام تو بڑا آسان ہے کہ عالمی ادارے جو کہیں اسے روبہ عمل لے کر آئیں۔ عالمی اداروں سے مالیاتی وعدوں کو پورا کرنے کا مطلب پاکستانی عوام پر ایک اور ظلم ہے ہمارے حکمران عوام سے کیے گئے وعدوں کو تو یکسر فراموش کردیتے ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کا ایسا احترام کرتے ہیں جیسا کہ انہیں قرآن و سنت کا کرنا چاہیے۔ لیکن اس معاملے میں یہ لوگ انتہائی ڈھٹائی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ سود کے نظام کے لیے بے چین ہیں۔ مفتاح اسماعیل بار بار ملک ڈیفالٹ کرنے کی دھمکی کیوں دے رہے ہیں۔ حکومت نے جو سپر ٹیکس لگایا ہے وہ محض نمائشی ہے۔ اصل ٹیکس جاگیرداروں پر لگنا چاہیے پورا طبقہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہے اور جو طبقہ مفتاح اسماعیل والا ہے وہ ٹیکس کے کاغذات میں ہیر پھیر کرتا ہے۔ اپنی فیکٹریوں کی پیداوار کم ظاہر کرتا ہے۔ لاگت زیادہ ظاہر کرکے ٹیکس بچاتا ہے یہ جو تنخواہ دار طبقے پر اضافی ٹیکس لگایا جاریا ہے جو لوگ 6 لاکھ سے 12 لاکھ آمدنی والے ہیں ان پر بھی ٹیکس لگادیا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمرانوں کا اصل نشانہ امیر نہیں عام آدمی ہے۔ زرعی بینکس کے بارے میں وزیر خزانہ نے بڑے آرام سے جان چھڑالی کہ یہ صوبائی معاملہ ہے صوبے ٹیکس لگاسکتے ہیں پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے براہ راست کروڑوں موٹر سائیکل والے متاثر ہوتے ہیں رکشہ، ٹیکسی، بس اور ویگن والے متاثر ہوتے ہیں جو اپنا کرایہ بڑھادیتے ہیں، ٹرینوں کے کرایے بھی بڑھادیئے گئے۔ ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور تمام خسارہ عام آدمی اور تنخواہ دار طبقے کی جیب سے جاتا ہے۔ اس کا یہ حال ہے کہ اس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہی نہیں سرکاری شعبے میں بھی دس پندرہ فیصد اضافے کا اعلان ہوتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد میں تاخیر ہوتی ہے۔ اسی طرح پرائیویٹ ملازمت کرنے والا تو کسی طرح بھی پچاس ہزار میں بھی جسم و جاں کا رشتہ برقرار نہیں رکھ سکتا یا تو مسلسل ادھار کے چکر میں پھنسا رہتا ہے یا ایک سے زیادہ ملازمتیں کرتا ہے یہ انداز حکمرانی ملک میں جرائم، بے ایمانی اور دھوکے بازی کو فروغ دینے کا سبب بنے گا۔ اس رویئے کی اصلاح نہ کی گئی تو معاشی تباہی سے زیادہ معاشرہ اخلاقی تباہی کا شکار ہوجائے گا معاشی تنگی تو گزر جاتی ہے لیکن اخلاقی تباہی نسلوں کو اور قوموں کو تباہ کردیتی ہے۔ اس سارے عمل کے ذمہ دار موجودہ اور تمام سابق حکمران ہیں لیکن وہ شاید یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کا کہیں کوئی حساب نہیں ہوگا۔