الیکشن کمیشن کہاں ہے

170

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا اور ان میں جو کچھ ہوا وہ الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے وجود پر بڑا سوال چھوڑ گیا ہے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ سرکاری سرپرستی میں کچھ لوگوں کو ہر قسم کی غنڈی گردی کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے دو جانیں ضائع ہوگئیں درجنوں زخمی ہوگئے بیلٹ پیپرز کی طباعت میں بھی غلطیاں سامنے آئیں اور الیکشن کمشنر نے بس تحقیقات کا حکم دے دیا اور ان تحقیقات کا نتیجہ بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے تحقیقات کا ہوتا آیا ہے جو فیصلے ہوچکے وہی قائم رہیں گے سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن میں کون لوگ بیٹھے جو جو امیداروں کے نام تک ٹھیک نہیں لکھ سکتے۔ محض تحقیقات کا حکم کیا معنی رکھتا ہے یہ بے ضابطگی انتخابی نتائج بھی متاثر کرسکتی ہے۔ ان انتخابات نے یہ بھی ثابت کردیا کہ حکمران پارٹی ہی فاتح رہے گی۔ پنجاب میں مسلم لیگ سندھ میں پیپلز پارٹی، کے پی کے میں پی ٹی آئی اور بلوچستان میں کچھڑی بنے گی۔ انتخابات کے دوران فائرنگ لاٹھیوں اور چھری چاقو کا استعمال آزادانہ ہوا ایک مرتبہ پھر قانون نافذ کرنے والوں کے بارے میں سوال ہے کہ وہ کیا کررہے تھے۔ اگر تماشہ دیکھنے کے لیے سیکورٹی کا خصوصی انتظام تھا تو تماشائی بہیترے ہوتے ہیں عوام کی بڑی تعداد خود تماشا دیکھ رہی ہوتی ہے عوام میں ایسے انتخابات کے ذریعے انتخابی اور جمہوری عمل سے خوف پیدا کیا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے اور کراچی کے انتخابات سندھ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اس وقت کراچی بے یار و مددگار ہے۔ حکومت سندھ اپنے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے کراچی کا نظم و نسق چلارہی ہے پورا شہر کھنڈر بنا ہوا ہے جابجا گٹر ابل رہے ہیں اور سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اس پر ایڈمنسٹریٹر کہتے ہیں کہ کراچی میں ترقیاتی کام ہورہا ہے پورے شہر میں گٹر لائنیں خراب ہیں اور جگہ جگہ لائنیں کھود کر سڑکیں ادھیڑ دی گئی ہیں کسی بھی دن بارش مزید تباہی لاسکتی ہے۔ ایسے حالات میں شہریوں کو ایک مخلص بلدیاتی قیادت کی ضرورت ہے جو اختیارات کا رونا نہیں روئے بلکہ جو کچھ میسر ہے اسے عوام کی خدمت پر لگائے اور ایسا صرف جماعت اسلامی کرسکتی ہے کیونکہ وہ ایسا تین بار کرچکی ہے۔ اب تو جماعت اسلامی وہ سارے کام کررہی ہے جو حکومت کے کرنے کے ہیں۔