بلدیاتی انتخابات: پولنگ میں رکاوٹیں، جھگڑے، فائرنگ کے واقعات میںدرجنوں افرادزخمی 

200
بلدیاتی انتخابات: پولنگ میں رکاوٹیں، جھگڑے، فائرنگ کے واقعات میںدرجنوں افرادزخمی 

جیکب آباد: صوبہ سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوران اتوارکو ووٹنگ کا عمل جاری رہا، پولنگ کا عمل صبح 8 سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری  رہا۔ تاہم مختلف علاقوں میں پولنگ کے دوران لڑائی جھگڑے، فائرنگ اور ناقص انتظامات کے باعث ووٹنگ میں تاخیر اور دیگر انتخابی بے ضابطگیاں سامنے آ ئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران لڑائی جھگڑے، فائرنگ، اور پولنگ میں رکاوٹیں عروج پررہیں،14 اضلاع میں سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد، میرپور خاص، جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ، شکار پور، خیر پور، نوشہرو فیروز، سانگھڑ، کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی اور تھر پارکر شامل ہیںمیں پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہی ، تاہم کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل روکنابھی پڑا۔کندھ کوٹ کے وارڈ نمبر 10 میونسپل کمیٹی کے پولنگ اسٹیشن پر 2 گروپوں میں جھگڑا ہو گیا جس کے دوران ڈنڈوں کے وار سے 7 افراد زخمی ہو گئے۔

کندھ کوٹ پولیس کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔کندھ کوٹ ہی میں جے یو آئی کے میونسپل کمیٹی کے امیدوار شوکت ملک کی گاڑی پر مخالفین نے ڈنڈوں سے حملہ کر دیا اور گاڑی کے شیشے توڑ دیئے۔جے یو آئی کے امیدوار شوکت ملک نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جے یو آئی کا کیمپ اکھاڑ دیا ہے۔

اس صورتِ حال کے بعد رینجر اور پولیس کی بھاری نفری پولنگ اسٹیشن پہنچ گئی۔ کندھ کوٹ کی یو سی درڑ پولنگ اسٹیشن نمبر 28 نہال جعفری سے پولنگ کے عملے کو اغوا کر لیا گیا۔کندھ کوٹ پولیس کے مطابق مذکورہ پولنگ اسٹیشن سے ڈاکو پولنگ کے عملے کے 7 افراد کو اغوا کر کے لے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق کچے کے بھیو گینگ نے پولنگ کے عملے کو اغوا کیا ہے، ڈاکو پولنگ کا سامان بھی لے گئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق پولنگ کے عملے کے ساتوں ارکان کو بازیاب کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خیرپور میں کوٹ ڈیجی کے وارڈ نمبر 6 کے پولنگ اسٹیشن پر پی پی اور جی ڈی اے کارکنان میں کشیدگی پیدا ہو گئی، جس کے بعد فریقین میں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ہوا جس پر پولنگ کا عمل روک دیا گیا، واضح رہے کہ کوٹ ڈیجی انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنوں میں شامل تھا۔جیکب آباد کی یونین کونسل کندرانی کے پولنگ اسٹیشن نمبر 517 گلشیر کنڈرانی میں بھی جھگڑا ہوا ہے۔

جیکب آباد پولیس کے مطابق جھگڑے میں لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں 2 امیدواروں سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے۔پولنگ اسٹیشن فرید مہر پر 2 سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہو گئے۔

جیکب آباد میں یوسی شیراں کے پولنگ اسٹیشن نمبر 208 اور 209 پر کشیدگی ہوئی، جس کے باعث پولنگ اسٹیشز پر ووٹنگ بند کرا دی گئی، پولیس کے مطابق آزاد امیدوار محمد شعبان کے حامیوں کے اعتراضات پر پولنگ بند کی گئی۔ بعد ازاں پولیس نے پولنگ اسٹیشن جلال پور میں کشیدگی پر قابو پا لیا اور ووٹنگ کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا۔

ادھر نوشہروفیروز میں پرانا جتوئی میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے کارکنان کی وین پر فائرنگ کی گئی جس سے گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا، کارکنان پرانا جتوئی سے نیو جتوئی پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کرنے جارہے تھے، جی ڈی اے کارکنان نے دعوی کیاکہ ان پر پیپلز پارٹی کے غنڈوں نے حملہ کیا۔

نوشہروفیروز میں یو سی چاہین سلیمان پولنگ اسٹیشن پر جھگڑا ہوا اور پولنگ عملے کو یرغمال بنالیا گیا، عملے کے کپڑے بھی پھاڑدیئے گئے، جھگڑے میں 5 افراد زخمی ہوئے، رپورٹ کے مطابق ووٹنگ لسٹ میں نام شامل نہ ہونے پر پی پی اور آزاد امیدواروں کے حامیوں میں جھگڑا ہوا، جس پر انتظامیہ نے رینجرز کو طلب کر لیا، امیدوار ڈسٹرکٹ کونسل ظفر راجپرکے مطابق الیکشن کمیشن کی غلطیوں کے باعث جھگڑے ہو رہے ہیں۔

گھوٹکی میں یونین کونسل ڈانگرو اور علی مہر میں بھی پی پی اور جی ڈے اے کارکنان میں جھگڑا ہوا، جھگڑے کے دوران 15 افراد زخمی ہوئے، تاہم بعد ازاں صورت حال پر قابو پا لیا گیا اور رکی ہوئی پولنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔

سانگھڑ میں پولنگ اسٹیشن نمبر 62 پر جھگڑے کے دوران متعدد افراد زخمی ہو گئے، جس پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی، اور پولنگ کا عمل بند کر دیا گیا۔

تھرپارکر میں اسلام کوٹ کی یو سی سینگارو کے آزاد امیدوار لجپت کے ایجنٹوں پر اغوا کے بعد تشدد کیا گیا، چیف ایجنٹ سومجی نے الزام لگایا کہ انھیں وڈیرے نبی بخش کے کہنے پر گھر سے اغوا کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور ڈیڑھ لاکھ روپے بھی لوٹ لیے گئے۔

دوسری طرف خیرپور میں وارڈ 16 پولنگ اسٹیشن نمبر 33 پر بیلٹ پیپر سیریل نمبر نہ مل سکا، سیریل نمبرز مسنگ ہونے کے باعث پولنگ ایجنٹس نے پولنگ شروع نہیں ہونے دی اور شدیدگرمی میں پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹرز کی قطار لگ گئیں۔

نواب شاہ میں ٹائون کمیٹی ایچ ایم خوجہ، یو سی 8 کے ٹی ایل پی امیدوار کا بیلٹ پیپر پر نام اور انتخابی نشان نہیں تھا، امیدوار کی جانب سے شکایات کی گئیں لیکن سنوائی نہیں ہوئی۔

یو سی 6 وارڈ 1 نادر شاہ ڈسپنسری پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا عمل بند کرادیا گیا، تحریک لبیک کے امیدوار کا نشان بھی تبدیل کیا گیا، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے کرین کے نشان کی بجائے کوئن کا نشان الاٹ کیا گیا، جس پر ٹی ایل پی کے کارکنوں نے پولنگ اسٹیشن کو بند کرا دیا۔

نوشہروفیروز میں انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، ضلع کے اکثر انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرے خراب نکلے۔

ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے 14اضلاع میں ہونے والے پہلے مرحلے میں 887یونین کونسلوں اور یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی مشترکہ 887 نشستوں میں سے 135 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں ،ضلع کونسلر کی 794 نشستوں میں سے 107 پر امیدوار،یونین کمیٹی اور یونین کونسل کے وارڈز کونسلرز کی 3548 نشستوں میں سے 622 پر امیدوار ،ٹائون کمیٹیوں کے وارڈ کونسلرز کی 694 نشستوں میں سے 68 پر امیدوار اور میونسپل کمیٹیوں کے وارڈز کونسلرز کی 354 نشستوں میں سے 14 پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے ہیں۔