امریکا و یورپ سے درآمد شدہ لکڑی کے 450 کنٹینرز کی کلئیرنس رک گئی

372
امریکا و یورپ سے درآمد شدہ لکڑی کے 450 کنٹینرز کی کلئیرنس رک گئی

کراچی:ملک میں لکڑی کی درآمدات کو برآمد کنندہ ملک کی فائیٹو سرٹیفکیٹ سے مشروط کیے جانے کے باعث امریکا و یورپ سے درآمد ہونے والے لکڑی کے 450 کنٹینرز کی کلیئرنس رک گئی ہے جس کی وجہ سے امپورٹر کو اضافی اخراجات ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ملک میں امریکا،آسٹریا، سوئیڈن، جرمنی، فرانس، کینیڈا ودیگر یورپین ممالک سے مختلف اقسام کی لکڑی کے ماہانہ 1500 کنٹینرز کی درآمدات ہوتی ہیں اور حکومت کو یہ شعبہ ڈیوٹی و ٹیکسوں کی مد میں سالانہ 700کروڑ روپے کی ادائیگیاں کرتا ہے۔

آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین شرجیل گوپلانی نے بتایا کہ لکڑی کی درآمدات کو فائیٹو سرٹیفکیٹ سے مشروط کرنے کا اقدام محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی ایما پر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 16جون سے لکڑی کے درآمدی کنسائمنٹس کی کسٹم کلئیرنس رک گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعدازاں محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے متعلقہ حکام کو ایک خط بھی جاری کیا گیا ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ملک میں 16جون سے قبل درآمد ہونے والے لکڑی کے تمام کنسائمنٹس کو کسٹم کلئیرنس دی جائے لیکن کسٹمز حکام مذکورہ خط کو تسلیم نہیں کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ نئی پابندی کو امریکی کمپنیوں نے مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے لیے لکڑی کے برآمدی آرڈرز قبول کرنے سے انکار کردیا ہے حالانکہ پاکستان میں امریکا کی تمام ریاستوں سے سالانہ 54ملین ڈالر مالیت کی لکڑی درآمد کی جاتی ہے، امریکی برآمد کنندگان کا موقف ہے کہ انکے ملک میں جراثیم اور بیکٹیریا کش مہم پاکستان سے سخت ہے لہذا انکے کنسائمنٹس کے لیے فائیٹو سرٹیفکیٹ ضروری نہیں ہے۔

شرجیل گوپلانی نے بتایا کہ لکڑی کی درآمدات کے حوالے سے نئی شرائط کے تحت برآمدکنندہ ملک کے کورینٹائن ڈپارٹمنٹ سے ہی لکڑی کے کنسائمنٹس کی فائیٹو سرٹیفکیٹ کے حامل کنسائمنٹ کو کلئیر کرایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ضمن میں جاری احکامات کو واپس لیتے ہوئے رکے ہوئے کنسائمنٹس فوری طور پر کلئیر کرانے کے احکامات جاری کریں تاکہ جہاز راں کمپنیوں کی ان کنسائمنٹس پر ڈیمریج وڈیٹنشن کی مد میں زرمبادلہ کی صورت میں بھاری ادائیگیوں کی بیرون ملک منتقلی نہ ہوسکے۔

یونائٹڈ نیشن کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کے سروے کے مطابق پاکستان میں آبادی اور زمینی رقبے کے تناسب سے 25 تا 30فیصد جنگلات ضروری ہیں لیکن اسکے برعکس پاکستان میں صرف 1.57فیصد رقبے پر جنگلات ہیں جسکی وجہ سے پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔