حکمران کو عوام کی نہیں آئی ایم ایف کی رضا چاہیے؟

302

وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف لچک نہیں دکھا رہا، پٹرول کی قیمت بڑھانے کے باوجود اب تک معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جو پاکستان کے حالات کے مطابق نہیں تھا، انہوں نے تمام رعایتوں کو ختم کرنے کا وعدہ کیا جبکہ عوام کی معاشی حالت ایسی ہے کہ ہم یہ کر نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس گزشتہ حکومت کا معاہدہ موجود ہے، جس میں پٹرول پر سبسڈی زیرو کرنے کا وعدہ کیا، آئی ایم ایف نے وہی شرائط رکھی ہیں جن پر گزشتہ حکومت نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا، اب اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہ ہماری نئی حکومت کا اعتراف کہ وہ ملکی معیشت کو مزید تباہ تو کر سکتے ہیں لیکن اس میں بہتری نہیں آسکتی ہے۔ اس لیے عوام اب مکمل طور سے آئی ایم ایف کے معاشی اور نجانے کس کس طرح سے غلام ہیں۔ یہ پاکستان کے عوام کی بد قسمتی ہے کہ ان کو جمہوریت کے نام پر غلامی مل رہی ہے اور اس پوری صورتحال پر اسٹیٹ مکمل خاموش ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کی جلد بحالی اور اب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ معاہدہ ہونے کو ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ کرنا ہوگا اور یہ سلسلہ ہر ہفتے جاری رہے گا۔ حکومت کی جانب سے اس عجلت کی وجہ یہ ہے کہ اس پروگرام کو بجٹ منظوری سے پہلے بحال کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ جو بجٹ اگلے مالی سال کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ’اس میں آمدنی اور اخراجات کے سارے تخمینے ہی آئی ایم ایف کی جانب سے پروگرام بحالی اور اس کے نتیجے میں اس کا اپنی فنانسنگ اور دوسرے عالمی اداروں اور ملکوں کی جانب سے آنے والی فنڈنگ پر انحصار ہے‘۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے روپے کی قیمت میں ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ گراوٹ آئی ہے۔ پاکستان میں رواں برس 11 اپریل سے لے کر جون کی 21 تاریخ تک روپے کے مقابلے میں ایک ڈالر کی قیمت میں ساڑھے 28 سے 30 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ صرف 40 دن میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اس اس بے تحاشا اضافے نے جہاں ملک کے ذمے واجب الادہ قرضوں میں 3600 ارب کا اضافہ کیا وہیں مقامی صارفین کے لیے تیل، گیس اور کھانے پینے کی اشیا کو مہنگا کر دیا ہے۔
ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض حاصل کرنے کا معاہدہ ہونے میں تاخیر کو قرار دیا جاتا ہے جس نے پاکستان کے لیے بیرونی فنڈنگ کو روک رکھا ہے۔ پاکستان اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے مسائل کا شکار ہے کیونکہ درآمدات کے لیے بیرون ملک جانے والے ڈالروں کی تعداد برآمدات اور ترسیلات زر کے ذریعے اندرون ملک آنے والے ڈالروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے 2019 میں طے پانے والے قرض پروگرام کی بحالی نہ ہونے سے بیرونی فنانسنگ مکمل طور پر رک چکی ہے۔ پاکستان میں اپریل کے آغاز پر نئی حکومت کے قیام کو اب تک ڈھائی مہینے ہو چکے ہیں تاہم یہ حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ پروگرام بحال کرانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی۔ تاہم وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے تازہ ترین بیان میں آئی ایم ایف سے پروگرام بحال ہونے کی پیش رفت کا عندیہ دیا گیا ہے اور ان کے مطابق ایک دو روز میں یہ پروگرام بحال ہو جائے گا۔
ہم نے اپنے قبل ازیں آرٹیکل میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر عائشہ پاشا کی امریکا میں لابنگ جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں کیا رکاوٹ ہے؟ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں کچھ رکاوٹیں تھیں اور ان میں سے کچھ ابھی تک موجود ہیں جن کی وجہ سے آئی ایم ایف نے یہ پروگرام بحال نہیں کیا۔ پاکستان کی وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور مفتاح اسماعیل کے بیان کے مطابق اس پروگرام کی بحالی کے سلسلے میں جلد پیش رفت ہونے والی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں معیشت اور آئی ایم ایف پروگرام سے جڑے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی بہت ضروری ہے ورنہ پاکستان کے نئے مالی سال کے لیے پیش کردہ بجٹ میں پیش کیے جانے والے آمدنی اور اخراجات کے سارے تخمینے بیکار ثابت ہوں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے پاکستان نے 30برسوں کے دوران اپنے اثاثوں کو بے دردی سے اونے پونے فروخت کر دیا جس میں سرکاری بینک اور مالیاتی ادارے، اربوں کے صنعتی یونٹس، اور اسی طرح کے اثاثوں کے فروخت کے بعد پاکستان کے پاس آمدنی کے ذرائع محدود اور اخراجات کے دروازے بڑے اور بلند ہوتے جارہے ہیں۔ جس کے لیے حکومت کے پاس کوئی اثاثے موجود نہیں ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ تاخیر کی وجہ سے پاکستان معاشی طور پر بے پناہ نقصان اٹھا چکا ہے اور اگر اس میں مزید تاخیر ہوئی تو پاکستان کے لیے اگلے مالی سال میں معیشت کو چلانا مشکل تر ہو جائے گا۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے جولائی 2019 میں قرضہ پروگرام پر معاہدہ کیا تھا جس کے تحت چھے ارب ڈالر ملنے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں تین ارب ڈالر وصول ہوئے تاہم اس سال کے شروع کے مہینوں میں پروگرام تعطل کا شکار ہوا اور پھر پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مسلم لیگ ن کی سربراہی میں ایک مخلوط حکومت قائم ہوئی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے تیل و بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا جو ڈیڑھ مہینے تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد حکومت کی جانب سے تین بار ڈیزل و پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کی صورت میں ختم کی۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ’پاکستانی آمدنی بڑھائیں اور اخراجات کو کم کریں اور ہم یہ دونوں کام نہیں کر رہے۔ آمدنی بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس ایک ہی حل ہے پٹرول، گیس نرخوں اور شرح سود میں اضافہ کیا جائے جس سے ملک میں بے روزگاری کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ سبسڈی کے باوجود ابھی تک آئی ایم ایف پروگرام کے بحال نہ ہونے کے سلسلے میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات میں تعطل برقرار ہے جس کی وجہ سے پروگرام کی بحالی تعطل کا شکار رہی۔
لیکن یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا تین برسوں کے دوران آئی ایم ایف کے تحت نہ دی جانے والی سبسڈی سے پاکستان میں عوام کے لیے کون سی شہد و دودھ کی نہریں بہہ گئیں ہیں جن سے عوا م کو کوئی سکھ نصیب ہوا ہے۔ حقیقت یہ کہ حکمرانوں کو عوام کی نہیں آئی ایم ایف کی رضا چاہیے۔