وائٹ مگرکس قیمت پر

328

دو اقساط کے باوجود بات مکمل نہیں ہوئی۔ ہم حیران ہیں ایف اے ٹی ایف کی لسٹ میں گرے سے وائٹ ہونے پر تحریک انصاف، ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کس بات کا کریڈٹ لے رہی ہیں؟ مجاہدین کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے ہر رشتہ، ہر تعلق توڑنے کا یا پھر انھیں مکمل طور پر ہندو درندوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا، جو ہم نے عرصے سے چھوڑ رکھا ہے لیکن وہ جو وادی کے لوگ اہل پاکستان سے امید کی باریک سی ڈوری سے بندھے ہوئے تھے اس ڈوری کے ٹوٹنے کا یا پھر اپنی خود مختاری سے دستبرداری کے مکمل اعلان کا۔
گزشتہ چالیس برس سے پاکستان کو بحیثیت ریاست امریکا مختلف طریقوں اور دبائو کے ہتھیاروں سے مسلسل اور مستقل کنٹرول کرنے اور دبائو اور تنائوکی حالت میں رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ 80اور 90 کی دہائی میں امریکا پاکستان کے نیو کلیر پروگرام پر پابندی، این پی ٹی، پریسلر ترمیم اور سی ٹی بی ٹی وغیرہ کے ذریعے دبائو ڈالتا رہا۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی بے چہرہ جنگ میں کامیابی کے لیے امریکا کو پاکستان کی اشد ضرورت تھی لیکن اس وقت بھی کیری لوگر بل کے تازیانے ڈالروں کی جھنکار کے ساتھ ساتھ تھے۔ ایف اے ٹی ایف کی بازگشت بھی اس دوران سنائی دیتی رہی۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد 2018 سے اگلے برسوں میں جس میں شدت آگئی اور چار چار مہینے کی رپورٹ کارڈ جاری ہونا شروع ہوگئی کہ 27 نکات پر عمل ہوگیا۔ 33پوانٹس میں سے اتنے پوائنٹس پر عمل باقی ہے۔ ان پر عمل کردیا گیا تو پھر چھے مزید اضافہ کردیے گئے۔ سی ٹی بی ٹی ہو، فضائی میزائل ٹریٹی ہو، کیمیکل اور جراثیمی ہتھیاروں کی بات ہو، نیو کلیر سپلائی کلب ہو یا پھر ایف اے ٹی ایف۔ یہ سب لبرل نیوورلڈ آڈر کے ہتھیار، میکنزم اور پلیٹ فارمز ہیں جن کے ذریعے ہدف کردہ ممالک کو اپنے سانچوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ اسی طرح جی سیون ہو، جی ٹوئنٹی ہو یا پھر کچھ اور مخصوص منتخب کلب ان میں داخلہ تب ہی ممکن ہے جب مخصوص رویے اور کلچر پر عمل ہونے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام سے اخلاص کامل ہو۔ اچھا بچہ بن کر ہی یہ انعام مل سکتے ہیں۔ وائٹ لسٹ میں آکر پاکستان بھی انعام یافتگان میں شامل ہوا ہی چاہتا ہے۔
گرے سے وائٹ ہونے کے لیے پاکستان نے 2020 اور 2021 میں تقریباً 17قوانین پاس کیے اس وضاحت کے ساتھ کہ اس قانون سازی کا محرک ایف اے ٹی ایف کا دبائو ہے۔ گرے سے وائٹ ہونے کی پاکستان نے کیا قیمت چکائی ہے اس کا اندازہ ان قوانین سے کیا جاسکتا ہے جو اس ضمن میں کیے گئے۔ جن میں سے ایک میوچل لیگل اسسٹنس (کرمنل میٹرز) ایکٹ 2020 ہے جس کے بعد پاکستان دوسرے ممالک کو فوجداری معاملات میں قانونی معاونت فراہم کرنے کا پابند ہے اور عام پاکستانی شہری کی معلومات اور تفصیلات کسی دوسرے ملک کو با آسانی دی جا سکیں گی۔ اس کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔ بل کی شق 5 (1) کے مطابق اگر سیکرٹری داخلہ یا ان کے متعین افسر کو ضروری لگتا ہے تو وہ فوج داری معاملات کے حوالے سے کوئی بھی معلومات خفیہ طریقے سے دوسرے ملک کی مجاز اتھارٹی کو ان کی طرف سے درخواست موصول ہوئے بغیر بھی بھیج سکے گا۔ لیکن دوسری طرف اگر یہی سہولت پاکستان کو کسی ملک سے درکار ہوگی تو وہ پاکستان سے معاہدے کی درخواست کر سکتا ہے۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری وقف پراپرٹی ایکٹ 2020، اس قانون کے تحت ضلع اسلام آباد میں موجود وقف املاک مثلاً دینی مدارس، مساجد وغیرہ سے متعلق معلومات کی جانچ پڑتال ایف اے ٹی ایف سمیت بین الاقوامی ادارے کر سکتے ہیں۔ 19گریڈ کا مسلمان سرکاری افسر چیف ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تعینات کیا جائے گا جو بوقت ضرورت وقف املاک سے متعلق ہر مطلوبہ معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ معلومات فراہم کرنے سے انکار کی صورت میں قانون کے تحت پانچ سال تک کی قید اور ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ اوقاف کے افسر (ڈپٹی کمشنر) کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ازخود یہ فیصلہ کرے کہ آیا کوئی خطبہ، خطاب یا لیکچر ملکی خودمختاری اور سالمیت کے منافی ہے، مذہبی اور گروہی فرقہ واریت پر مبنی ہے یا نہیں۔ اینٹی ٹیررازم ایکٹ میں ایک ترمیم یہ کی گئی کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی پاکستان کو دی گئی ہدایات کی اگر کوئی شخص خلاف ورزی کرے گا تو وہ اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت جرم سمجھا جائے گا اور اس کا ٹرائل کیا جائے گا۔ اسی طرح منی لانڈرنگ ایکٹ کے اندر ترمیم کرکے ایک ایگزیکٹو کمیٹی بنائی گئی ایف اے ٹی ایف کا نامزد نمائندہ رکن کے طور پر اس کمیٹی میں بیٹھے گا اور وہ ایف بی آر، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں کی رپورٹ موصول کرکے ایف اے ٹی ایف کو بھیجے گا۔ اس ترمیم کی ایک شق 6B کے تحت یہ ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن کو جوابدہی کے پابند ہوں گے یعنی ایف اے ٹی ایف کی طرف سے جو ہدایات موصول ہوں گی یہ ادارے انھیں نافذ کریں گے اور اگر نافذ نہیں کریں گے تو جوابدہ ہوں گے کہ نافذ کیوں نہیں کیا۔ 6Cترمیم میں یہ کہا گیا ہے کہ ان اداروں کے اوپر ایک اوور سائڈ باڈی بنائی جائے گی اور وہ باڈی ایف اے ٹی ایف سے براہ راست رابطے میں ہوگی اور وہ کسی بھی ادارے سے کوئی بھی کام کرانے کے لیے حکم جاری کرسکتی ہے۔ اگر حکم کی تعمیل نہ ہوئی تو پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔ یہ ہیں وہ عظیم کارنامے جن کا کریڈ ٹ لینے کے لیے سب بے چین ہیں۔ ایک دو مواقع کے سوا شاید ہی کبھی ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کی خود مختاری کا تحفظ کیا ہو اب وہ اس بے فائدہ کشمکش سے بھی دستبردار ہوگئے۔ خود مختاری کی ایک تعریف یہ کی جاتی ہے کہ خود مختار وہ ہے سب جس کے تابع ہوں لیکن وہ خود کسی کے تابع نہ ہو۔ ہمارے بارے میں معاملہ یہ ہے کہ ہم سب کے تابع ہیں کوئی ہمارے تابع نہیں ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ کمزور اور غریب ممالک کی خود مختاری نام کی کسی چیز کا وجود اس عہدجدید میں نہیں۔ ان ممالک کی خود مختاری پر امریکا اور مغرب نے اس سختی سے نا خن گاڑدیے ہیں کہ ہر گھڑی ذلت، پسپائی اور کشمکش نے انھیں اپنی گرفت میں اس طرح لے لیا ہے کہ ان کا کچھ بھی ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ زنجیروں میں جکڑے ان ممالک میں امریکا مغرب اور ان کے بنائے ہوئے ادارے ہی وضاحت کرتے ہیں کہ خود مختاری کیا ہے، دہشت گردی کیا ہے، کس نظریے کا کیا مفہوم ہے، کس نظریے کو اختیار کرنا ہے اور کسے ترک کرنا ہے۔
قانون سازی کس طرح کرنی ہے اور کن امور میں کرنی ہے۔ ایف اے ٹی ایف محض رقوم کی منتقلی میں دہشت گردی کی حساسیت کا نام نہیں ہے یہ ایک سیاسی میکنزم اور سیاسی ادارہ ہے، ایک عالمی تصور کا متعینہ ممالک میں متعینہ ہدف ہے۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کو کسی اور نظرسے دیکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب امریکا سپر پاور بنا تو اس نے روس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے تحت برطانیہ اور فرانس کی نو آبادیوں میں سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پرآزادی کی تحریکوں کی سرپرستی کرنا شروع کردی۔ 1991 میں جب سوویت یو نین تحلیل ہوا تو امریکا کا اگلا ہدف اسلامی دنیا تھی۔ ہدف بدلا تو اس نے اسلامی دنیا میں آزادی کی تحریکوں اور جہاد کو دہشت گردی سے منسلک کرنا شروع کردیا جس کی زد میں جہاد کشمیر بھی آگیا۔ مقبوضہ کشمیر اس کے نئے سب سے بڑے اتحادی بھارت کا بھی دردسر تھا جب کہ پورا پاکستان کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو اپنی ہی جدوجہد باور کرتا تھا۔ آج پاکستان میں اپنے ایجنٹ حکمرانوں کی مدد سے امریکا پاکستانیوں اور اہل کشمیر کے دودھڑکتے ہوئے دلوں کو دور کرنے اور جہاد کشمیر کو ٹھنڈا کرنے میں بظاہر کامیاب نظر آرہا ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے۔ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کی عالمی سازش میں پھنسنے کے بعد پاکستان جس طرح اپنے اثاثوں اور خود مختاری سے دستبردار ہوتا جارہا ہے کیا کسی کے لیے جہاد کشمیر سے دستبردار ہونا بھی ممکن ہے۔ طاقت اور سازش کے ذریعے کسی نظریہ کو ختم کرنا ممکن نہیں جہاد تو پھر حکم ربی ہے۔ اس کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔