آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کی درستی

295

آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ حکومت کے معاملات میں ایک پیش رفت یہ ہو چکی ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان تقریباً تمام ایشوز پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ لیکن وہ جو بڑوں نے کہا ہے کہ جب تک پیسے جیب میں نہ آ جائیں تو ڈیل کو مکمل نہ سمجھاجائے، کیو نکہ عین آخری وقت بھی کوئی نہ کوئی اڑچن آ ڑے آ سکتی ہے۔ اس لیے بغلیں بجانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ بہرحال پاکستان میں مالیاتی اور معاشی بحران کی شدت جس رفتار سے بڑھ رہی تھی، اب اس میں ٹھیراؤ پیدا ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پہلے ایف اے ٹی ایف اور اب آئی ایم ایف کے حوالے سے مثبت پیش رفت سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ بہتر ہوگی اور عالمی مالیاتی اداروں کا بھی پاکستان کی حکومت پر اعتماد بڑھے گا، ملک کے اندر بھی بے یقینی میں کمی واقع ہوگی۔ حکومت کو سانس لینے کا موقع مل گیا ہے۔ جن امور پر اتفاق کی اطلاعات ملی ہیں، ان میں کہا گیا کہ ایک لاکھ روپے ماہانہ تک تنخواہ لینے والوں پر ٹیکس دوبارہ متعارف کرایا گیا ہے۔ جولائی سے پٹرولیم پر مرحلہ وار لیوی ٹیکس لگانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق یہ لیوی ہر ماہ لگائی جائے گی، جولائی میں 10روپے فی لیٹر لیوی عائد ہوگی، اگست سے 5 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہوگی اور اسے مارچ 2023ء تک 50روپے فی لیٹر کیا جائے گا۔
وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر کے ساتھ بات چیت کے آخری دور کے بعد میڈیا کو بتایا کہ آئی ایم ایف مالیاتی اہداف پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مشاورت کرے گا۔ حکومت نے سالانہ 150 ملین روپے کمانے والے افراد اور کمپنیوں پر ایک فی صد انکم سپورٹ لیوی، سالانہ 200ملین روپے آمدن والوں پر 2فی صد، 250ملین روپے سالانہ آمدنی والے افراد پر 3فی صد اضافی اور 300ملین روپے سالانہ کمانے والوں پر 4فی صد اضافی شرح عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کو آئی ایم ایف کے سالانہ ٹیکس استثنیٰ کی حد کو گزشتہ سال کی 6لاکھ روپے کی سطح پر برقرار رکھنے کے مطالبے کو تسلیم کرنا پڑا۔ 6لاکھ سے12لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں پر 2.5فی صد انکم ٹیکس عائد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ آئی ایم ایف اب مرکزی بینک کے ساتھ مل کر مقامی اثاثوں کے بجائے نیٹ بیرونی اثاثوں، نیٹ انٹرنیشنل ریزروز اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کے اہداف کوحتمی شکل دے گا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سمجھوتے کے بعد ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے کا سلسلہ رک گیا تاہم خاطر خواہ اضافے دیکھنے میں نہیں آیا۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی بڑی وجہ بڑھتا ہوا درآمدی بل اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہے۔ موجودہ مخلوط حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 30 روپے سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اب بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ جب اس ہفتے کے آخر تک عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ باقاعدہ معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے تو پاکستان کے لیے چین اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ پاکستان کی حکومت آئی ایم ایف کے عبوری ریلیف کے دورانیے میں کتنا مالیاتی نظم وضبط اور کنٹرول قائم کرتی ہے اور اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کس حد تک کمی کرتی ہے۔ پاکستان میں ایک حکمت عملی کے تحت اپنی ناکامیوں، نااہلیوں اور کم فہمی کو چھپانے کے لیے امریکا، یورپ، آئی ایم ایف اور بھارت پر الزامات عائد کرتے چلے آئے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ ہر مالیاتی ادارہ کسی ملک کو قرض دینے کے لیے، اس کی آمدنی اور ساکھ کو سامنے رکھتا ہے، اس کے ماضی کے رویہ کو دیکھا جاتا، یہ دیکھا جاتاہے کہ قرض لینے والا ملک، اس کی قسط ادا کرنے کی قوت رکھتا ہے یا نہیں۔
پاکستان ایک غریب ملک ہے لیکن یہاں صوبائی اسمبلی کی نئی عمارت تعمیر کرنے پر کئی ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کو لاکھوں میں تنخواہ بھی ملتی، مفت پرتعیش رہائش گاہ ملتی ہے، مہنگی لگژری اور بلٹ پروف گاڑیاں ملتی ہیں، ڈرائیور ملتا ہے، گھریلو ملازمین ملتے ہیں، ان ملازمین کی تنخواہیں سرکاری خزانے سے ادا ہوتی ہیں۔ سرکاری پٹرول، سرکاری گیس اور ٹیلی فون کی سہولت ملتی ہے اور رعب اور کروفر مفت میں ملتا ہے۔ ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، گورنر ہائوسز، وزیراعلیٰ ہاؤسز کے اخراجات کروڑوں روپے میں ہیں۔ ارکان اسمبلی کی تنخواہیں، مراعات اور ان کے لیے سرکاری رہائش گاہوں کا خرچ بھی کروڑوں میں ہے۔ وزراء، مشیران اور طرح طرح کے معاونین کے اخراجات الگ ہیں۔ اس قسم کے اخراجات ترقی یافتہ ملکوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی حاصل نہیں ہیں۔ پاکستان کی رولنگ اشرافیہ نے سرکاری خزانے کو ذاتی ملکیت کے نظریے کے تحت استعمال کیا ہے۔ زمینیں، گھر مفت الاٹ کرنے کے صوابدیدی اختیارات بھی شاید پاکستان ہی میں ہیں، ایسے اختیارات بھارت اور بنگلا دیش میں بھی نہیں ہیں۔ غیرممالک کے سربراہان سے ملنے والے تحائف بھی چند افراد کوڑیوں کے مول خرید کر گھر لے جاتے ہیں، قیام پاکستان سے لے کر اب تک صرف توشہ خانے کے مال کا حساب ہی لگائیں تو مالیت کئی ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ اس قسم کا طرزِ حکومت تو فاتح حکمرانوں، بادشاہوں یا امپیریل دور کے غیرملکی حکمرانوں کا ہوتا ہے۔
پاکستان کے وسائل اب رولنگ اشرافیہ کے شاہانہ اور غیرترقیاتی اخراجات اٹھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ پاکستان کے وہ طبقات جو براہ راست اور بلواستہ ٹیکس ادا کرتے آرہے ہیں، اب ان کی بھی مالی حالت اس قابل نہیں رہی کہ وہ مزید ٹیکس دے سکیں، دیوار پر لکھے ان حقائق کے باوجود حکمران عوام اور ملک دوست پالیسیاں اپنانے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان کے عوام ایک نہیں کئی سماجی نظاموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ خیبر پختون خوا قبائلی اور نیم قبائلی نظام میں پھنسا ہوا ہے جبکہ پورا بلوچستان سرداری اور قبائلی نظام میں گرفتار ہے، کراچی اور حیدرآباد کے سوا پورا سندھ وڈیرا شاہی اور گدی نشینوں کے زیر اثر ہے۔ پنجاب میں پوری سرائیکی بیلٹ جاگیرداروں، قبائلی سرداروں اور سیاسی گدی نشینوں کے کنٹرول میں ہے، پورے ملک میں صرف کراچی، حیدر آباد، وسطی و شمالی پنجاب کے شہری علاقے ایسے ہیں، جہاں مڈل کلاس اور کاروباری کلاس موجود ہے اور یہی وہ طبقات ہیں جو ٹیکس ادا کررہے ہیں۔