حلقہ 240 کا ضمنی انتخاب اور جماعت اسلامی

391

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 240 میں 17 جون کو ضمنی انتخاب ہوا۔ اس انتخاب کے نتائج کو دیکھ کر ایک جملے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن پارٹیوں کو شکست کی امید تھی وہ ہار گئیں اور جس جماعت کی کامیابی کی زیادہ توقع تھی وہ بہت سخت مقابلہ کرنے کے باوجود بہت کم ووٹوں سے جیت سکی۔ بعض سیاسی کارکنوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس جماعت کو کامیاب قرار دلوانا تھا، وہ ’’شفاف‘‘ طریقے سے کامیاب قرار پائی۔ ان الیکشن میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 10683، ووٹ حاصل کرکے ایک بار پھر کامیاب ہوگئی۔ اس طرح اس حلقے سے ضمنی انتخاب میں متحدہ پاکستان کے محمد ابوبکر رکن قومی اسمبلی بن گئے۔ تحریک لبیک پاکستان کے شہزاد شہباز 10618 ووٹ حاصل کرکے دوسرے اور مہاجر قومی موومنٹ کے سید رفیع الدین 8349 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ مذکورہ حلقے کے ووٹرز کا کہنا ہے کہ اصل مقابلہ متحدہ اور مہاجر قومی موومنٹ موومنٹ کے درمیان لگتا تھا لیکن ٹی ایل پی نے دوسرے نمبر اور فتح کے قریب کے ووٹ حاصل کرکے سب کو حیران و پریشان بھی کیا۔ پیپلزپارٹی حکومت میں رہنے کے باوجود حلقے سے 5240 ووٹ حاصل کرکے چوتھے نمبر پر رہی، جس سے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ بھی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں۔ جبکہ پاک سر زمین پارٹی اپنے سربراہ مصطفی کمال اور کارکنوں کی سخت محنت کے باوجود 4782 ووٹ حاصل کرکے پانچویں نمبر پر آسکی۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ پی ایس پی کو اس کے اپنے شہر میں ان کی پارٹی کی توقعات کے مطابق اہمیت حاصل نہیں ہورہی۔
حلقہ این اے 240 کورنگی کراسنگ سے شروع ہوکر لانڈھی ایک نور منزل تک دونوں اطراف کی آبادیوں کے مجموعی ووٹرز پر مشتمل ہے اس طرح یہ بات کہی جا سکتی ہے یہ حلقہ مہاجروں کی اکثریتی بستیوں کا مرکز ہے اس لحاظ سے سابقہ مہاجر قومی موومنٹ اور موجودہ متحدہ قومی موومنٹ کی اس حلقے سے کامیابی کوئی سرپرائز کی بات نہیں ہے البتہ کم ووٹوں لیکر یہاں سے کامیابی حاصل کرنا یقینا متحدہ کے لیے تشویش ناک امر ہوگا۔ اس حلقہ انتخاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں سے ضمنی انتخاب کے لیے کراچی اور اس کے لوگوں کی مسلسل خدمت کے لیے کوشاں جماعت اسلامی نے حصہ ہیں نہیں کیا۔ جماعت اسلامی نے اس طرح ان انتخاب کا بائیکاٹ کرکے ایم کیو ایم سمیت اس حلقے سے انتخاب لڑنے والی دیگر جماعتوں کو آزاد چھوڑ دیا تھا۔ حالانکہ حلقے ووٹرز کا کہنا ہے اگر جماعت اسلامی ضمنی الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کرتی تو اسے یقینا کامیابی حاصل ہوتی کیونکہ گزشتہ چند سال کے دوران جماعت اسلامی کراچی کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے جس طرح جدوجہد کرتی رہی اس جماعت کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور عوام نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ اس کے کراچی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن اور ان کے ساتھیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ خیال رہے کہ 1979 اور اس سے قبل جماعت اسلامی کا لانڈھی کورنگی کیا پورے ملک کی مقبول و بڑی جماعتوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے اور کراچی جماعت اسلامی کا شہر کہلاتا تھا۔
خیر ذکر ہے قومی اسمبلی کے حلقے 240 کا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹ 5 لاکھ 74 ہزار 340 ہے جن میں خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 29 ہزار 726 اور مرد ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 44 ہزار 614 ہے۔ خیال ہے کہ جماعت اسلامی موجودہ جمہوریت کے آلودہ نظام میں وفاقی حکومت کے سسٹم سے دور رہنا چاہتی ہے اس لیے باقی جمہوری دور کے لیے اس کا حصہ بننے سے دلچسپی بھی نہیں رکھتی تھی۔ ویسے بھی جماعت اسلامی کا فوری ہدف بلدیاتی انتخابات میں کراچی سمیت صوبے کے تمام شہروں سے اپنے میئر کے لیے نامزد امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں کامیاب کروانا ہے۔