کراچی: دنیا کا پانچواں بدترین شہر

305

برطانوی جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘ کے ریسرچ اینڈ اینالسز ڈویژن ’’اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ‘‘ کی حالیہ رپورٹ میں کراچی کو رہائش کے حوالے سے دنیا کے بدترین شہروں میں ایک بار پھر شامل کیا گیا ہے، اور کراچی دنیا کا پانچواں بدترین شہر ہے، جب کہ ڈھاکا بھی اس سے بہتر ہے۔ ای آئی یو کے انڈیکس میں 30 سے زیادہ عوامل کی بنیاد پر 173 شہروں میں حالات ِ زندگی کی درجہ بندی کی گئی ہے، اس فہرست میں کراچی 168 ویں پوزیشن پر ہے۔ شہروں کی درجہ بندی استحکام، صحت کی سہولت، ثقافت و ماحول، تعلیم اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں نوعیتی اور کمیتی عوامل کی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے شہر کراچی میں ماضی کے برعکس ہر ہر شعبے میں پستی ہے، اور شہر میں رہنے والے لوگ اس صورت ِ حال کو روزانہ کی بنیاد پر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ تقسیم سے قبل کراچی برِصغیر کا سب سے صاف ستھرا شہر کہلاتا تھا، یہ خوب صورت شہروں میں سے ایک تھا، لیکن آج بدترین شہر سمجھا جاتا ہے۔ وہ شہر جسے غریب پرور کہا جاتا تھا، جہاں امن و امان مثالی تھا..، اب جرائم کی آماج گاہ بن گیا ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے تعلیم یافتہ شہر تھا، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا.. اب تاریکی میں رہتا ہے، اور ستم یہ ہے کہ ’’کے الیکٹرک‘‘ عوام کو سخت گرمی میں ریلیف دینے کے بجائے شہریوں سے لوٹ مار کررہی ہے، اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ کے دہرے عذاب میں مبتلا کرکے رکھا ہوا ہے کیونکہ موجودہ اور ماضی کی ہر حکومت نے کے الیکٹرک کی سرپرستی کی ہے، اس سے ان کے مالی مفادات وابستہ ہیں۔ اسٹریٹ کرائمز شہر کی شناخت بن گئے ہیں۔ بلدیاتی اور شہری نظام کی صورتِ حال ہم 20منٹ کی بارش میں دیکھ چکے ہیں، اس معمولی بارش نے ایک بار پھر بتادیا کہ نکاسیِ آب کا نظام بھی بدترین ہے۔ کراچی کو ندی نالوں کی صفائی اور سیوریج سسٹم کی بحالی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ کراچی کچرا گھر بن گیا ہے اور کوئی محکمہ اس طرف توجہ دینے کو تیار نہیں۔ سب سے زیادہ تباہ کراچی ہوا ہے جو کبھی سب سے خوب صورت شہر تھا۔ اس شہر کے رکھوالوں نے اسے رہائش کے قابل بھی نہیں رہنے دیا ہے۔ کراچی کو شہر ِ ناپرساں بنادیا گیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کراچی کے لیے پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور لوگ روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کررہے ہیں۔ شہر میں ٹریفک جام معمول بن گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام اور معیاری سڑکیں تک نہیں بنائی گئیں۔ سندھ حکومت کی معلوم نہیں 250 بسیں کہاں گل سڑ رہی ہیں؟ وسائل کا ضیاع اور کرپشن تو معمول کی بات ہے۔ پیپلز پارٹی برسوں سے سندھ میں حکومت کررہی ہے اور بلدیاتی ادارے بھی اْس کے تسلط میں ہیں، لیکن اْس نے کراچی کے گمبھیر اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا اور کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہیں کیا۔ اْس نے کراچی کو صرف مال بنانے اور کرپشن کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس صورت ِ حال میں یہ ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی نے کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے مقدمہ لڑا ہے… پانی کے بحران، شناختی کارڈ کے حصول اور شہر میں ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مسائل کے حل کی جدوجہد کی ہے اور عوام کو ریلیف دلوایا ہے، اور یہ اس کی پوری تاریخ ہے۔ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ اور ان کی ٹیم نے اپنی اہلیت اور ایمان داری سے شہر کا نقشہ بدل دیا تھا، ان کے دور میں کراچی میں 32نئے کالج بنائے گئے، 350سے زائد بڑی بسیں چلائی گئیں، ماڈل پارک، اوورہیڈ برج، انڈر پاس، فلائی اوورز، اعلیٰ اور معیاری سڑکیں بنائی گئیں، پانی کا منصوبہ k-3مکمل کرکے k-4شروع کیا گیا، اور آج بھی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی ہر ہر ایشو پر کراچی کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صرف جماعت اسلامی ہی نے شہر کی تعمیر و ترقی کی ہے اور آئندہ بھی جماعت اسلامی ہی کراچی کی بہتری اور تعمیر و ترقی کے لیے واحد آپشن ہے۔