قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

235

لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اْسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے۔ مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اْس کو ہم اْسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے۔ (سورۃ النساء:114تا115)

سیدنا رابعہ بن کعب سے روایت ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا، تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو، میں نے کہا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور بھی کچھ؟ میں نے عرض کیا: بس یہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو۔
(سنن ابی داؤد)