بھاری ٹیکسوں سے معیشت کا پہیہ رک جائے گا، ایف پی سی سی آئی

213

کراچی: قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی شبیر منشاءنے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس کے نفاذ کی سختی سے مذمت کی ہے؛ جوکہ پہلے ہی 29 فیصد کا بھاری کارپوریٹ ٹیکس ادا کرتی ہیں اور ملک میں لاکھوں ملازمتیں بھی پیدا کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک کارپوریشنوں سے 39 فیصد ٹیکس وصول کرتے ہو ئے معیشت کا پہیہ رواں دواں نہی رکھ سکتا۔ مزید برآں، نجی شعبے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے کی جانے والی انویسمنٹ اس طرح کے کاروبار مخالف حالات میں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔

 شبیر منشا ءنے وضاحت کی کہ متاثر ہونے والی صنعتوں میں تمام بڑی صنعتیں شامل ہوں گی۔ یعنی سیمنٹ، اسٹیل، چینی، تیل اور گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینلز، ٹیکسٹائل، بینکنگ، آٹوموبائل، سگریٹ، مشروبات، کیمیکلز اور ایئر لائنز ؛ جو کہ کل 13 صنعتیں بنتی ہیں۔

 مزید برآں، باقی تمام صنعتوں پر بھی 4 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیاگیا ہے۔قائم مقام صدرایف پی سی سی آئی نے اس بات پر بھی صدمے کا اظہار کیا کہ وفاقی بجٹ 2022-23 کا اعلان صرف دو ہفتے قبل کیا گیا تھا اور اس میں صنعتوں پر کوئی سپر ٹیکس نہیں لگایا گیا تھااور یہ ایک انتہائی اچانک اور صنعت مخالف اقدام ہے۔

 شبیر منشاءنے ایف پی سی سی آئی کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ حکومت کو موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے راستے تلاش کرنا چاہیں؛ کیونکہ یہ صنعتوں، برآمدات، روزگار اور اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچائے بغیر زیادہ ٹیکس جمع کرنے کا واحد عملی اور پائیدار طریقہ ہے۔

 شبیر منشا ءنے گہری تشویش کے ساتھ نوٹ کیا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میںاس فیصلے پر شدید بے چینی پا ئی گئی اور صرف 20 منٹ کے تھوڑے سے عرصے میں KSE-100 انڈیکس میں 2,055 پوائنٹس یعنی کے 4.81 فیصد کی کمی کے بعد جمعہ کے دن ٹریڈنگ کو معطل کرنا پڑا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تاجر برادری کو پی ڈی ایل پر آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی اپنی انڈراسٹینڈنگ پر اعتماد میں لے۔ قائم مقام صدرایف پی سی سی آئی نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کے نفاذ کی صورتحال پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی عمل شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔