خوراک کی بڑھتی قلت، دنیا کو تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اقوام متحدہ

165
food shortages

برلن : اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ دنیا بھر میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قلت کے باعث دنیا کو تبائی کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، کورونا وائرس،وبائی امراض اور عدم مساوات کی وجہ سے پہلے ہی لاکھوں افراد بھوک سے مر رہے تھے کہ روس ۔ یوکرین جنگ نے مزید اضافہ کیا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں برلن میں منعقد ہونے والے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے عہدیداروں کے ایک اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا انتہائی خطرہ ہے کہ 2022کو قحط سالی کا سال قرار دیا جائے گا” اور سال 2023 اس سے بھی بدتر ہو سکتا ہے۔

انتونیو گوتیریس  کا کہنا تھا کہ ایشیا، افریقہ اور امریکہ میں فصلوں کی کٹائی متاثر ہو گی کیونکہ دنیا بھر کے کسان کھاد اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال خوراک تک رسائی کے مسائل اگلے سال عالمی خوراک کی قلت بن سکتے ہیں اورکوئی بھی ملک ایسی تباہی کے سماجی اور معاشی اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مذاکراتی ٹیم کام کر رہی ہیں جو یوکرین کو بحیرہ اسود سمیت خوراک برآمد کرنے کے قابل بنائے گی اور روس کو خوراک اور کھاد کو عالمی منڈیوں میں بغیر کسی پابندی کے لانے دے گا۔ انہوں نے غریب ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کا بھی مطالبہ کیا تاکہ ان کی معیشتوں کو رواں دواں رکھنے میں مدد ملے اور نجی شعبے کو خوراک کی عالمی منڈیوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے۔