شہری سیلاب کا خطرہ

196

کراچی سمیت پورے ملک میں قبل از مون سون بارشیں شروع ہوگئی ہیں۔ کراچی بارش کے حوالے سے ایک ہفتہ قبل محکمہ موسمیات میں پیش بینی کی تھی۔ بدھ کے روز اچانک موسم تبدیل ہوگیا اور کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز ہوا کے ساتھ بارش شروع ہوگئی، کہیں تیز موسلادھار اور کہیں معتدل بارش ہوئی۔ بارش کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں چار افراد جاں بحق بھی ہوگئے۔ حسب معمول کراچی میں تھوڑی سی بارش سے ٹریفک جام ہوگیا اور بہت سے علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔ پنجاب، خیبر پختون خوا اور سندھ کے بالائی علاقوں میں مون سون کا موسم شروع ہونے سے قبل ہی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، کراچی میں بارش شروع ہونے سے قبل ہی وفاقی وزیر برائے موسمیات تبدیلی و ماحولیات شیری رحمن قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے والے ادارے این ڈی اایم اے اور متعلقہ محکموں کو انتباہ جاری کرچکی ہیں کہ ملک میں 2010ء والی خطرناک سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، لاہور، ملتان، پشاور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں شہری سیلاب کا واضح خطرہ ہے، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قومی اور صوبائی محکموں کو ممکنہ تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی ہدایت کردی ہے۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا ہے کہ دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے شہری علاقوں کو بھی خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حکومت کے پاس متعلقہ محکموں کی جانب سے موسمیاتی پیش بینی کی وجہ سے وقت سے پہلے خطرات سامنے آگئے ہیں۔ اس لیے حکومت اور متعلقہ محکموں کو سیلابی بارش اور بارش کے سیلاب کے خطرات کا ازالہ کرنے کے لیے احتیاطی اقدامات تیز کردینے چاہئیں۔ شہری سیلاب کا مسئلہ بھی سامنے آگیا ہے۔ اب تو مسئلہ یہ بھی ہوگیا ہے کہ معمول کی بارشیں شہروں میں سیلاب کا سبب بن جاتی ہیں اور اس کی وجہ منصوبہ بندی کے بغیر شہروں کی تعمیر ہے جس میں بارش کے پانی کی نکاسی کے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ کراچی میں تو ہم عرصے سے تجربہ کررہے ہیں کہ بارش رحمت بننے کے بجائے زحمت بن جاتی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ شہری بلدیاتی ڈھانچے کی تباہی ہے۔