تعلیم اور کاغذ کا بحران

280

آل پاکستان پیپر مرچنٹ ایسوسی ایشن، پاکستان ایسوسی ایشن آف پرنٹنگ گرافک آرٹ انڈسٹری (پاپگائی) اور کاغذ کی صنعت سے وابستہ دیگر تنظیموں کے عہدیداروں نے ملک کے ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کے ہمراہ مشترکہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور قوم کو خبردار کیا ہے کہ کاغذ کے بحران کی وجہ سے یکم اگست سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال پر طلبہ کو کتابوں کی دست یابی نہیں ہوسکے گی۔ کیوں کہ ملک میں کاغذ کا شدید بحران ہے، کاغذ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، کاغذ اتنا مہنگا ہو گیا ہے اور اس کی قیمت میں روز بروز جو اضافہ ہورہا ہے اس کی وجہ سے ناشرین کتب کتاب کی قیمت کا تعین ہی نہیں کرپارہے ہیں۔ اس وجہ سے سندھ، پنجاب اور کے پی کے ٹیکسٹ بک بورڈز نصابی کتابیں نہیں چھاپ سکیں گے۔ کاغذ کے بحران کا سبب جہاں عالمی سطح پر مہنگائی ہے، وہاں پاکستان میں کاغذ کے موجودہ بحران کی ذمے داری حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور مقامی کاغذ کی صنعتوں کی اجارہ داری پر بھی ہے۔ انہوں نے کارٹیل بنایا ہوا ہے، اور وہ کاغذ کی من مانی قیمتیں مقرر کررہے ہیں۔ حکومت کی منفی پالیسی کی وجہ سے کاغذ تیار کرنے والی مقامی صنعتوں نے اجارہ داری حاصل کرلی ہے اور وہ من مانے طور پر قیمت میں اضافہ کررہے ہیں اور غیر معیاری کاغذ کی قیمت میں 200 فی صد اضافہ کردیا گیا ہے۔ درآمد کیے جانے والے کاغذ پر 70 فی صد ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ڈالر کی شرح میں اضافے کی وجہ سے درآمدی کاغذ بھی مہنگا ہوجاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ خبر آچکی ہے کہ مہنگے کاغذ کی وجہ سے ناشرین کے لیے کتابوں کا شائع کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ کاغذ نہیں ہوگا تو کتابیں کیسے چھاپی جائیں گی۔ اسی طرح کی اطلاع لاہور کے ناشرین کی جانب سے بھی آئی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافہ، لوڈشیڈنگ کے ساتھ کاغذ کی قیمت میں یکشمت 105 روپے فی کلو سے بڑھ کر 210 روپے کلو ہوگئی ہے۔ علم اور تعلیم کو ہماری قومی زندگی کی ترجیحات میں سب سے پہلے نمبر پر ہونا چاہیے لیکن اسے آخری درجے پر بھی نہیں رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے اتنا اہم ترین مسئلہ قومی سطح پر زیر بحث نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مالکان اس مسئلے سے براہ راست متاثر ہورہے ہیں، لیکن یہ مسئلہ ذرائع ابلاغ میں بھی جگہ نہیں بنا سکا ہے۔