ڈوبتی معیشت کو بچانے کے ناگزیر اقدامات

348

بڑھتی مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، اسٹاک مارکیٹ کی تنزلی، ملک میں اشیاء ضروریہ کی کمی خصوصاً پٹرول اور کھانے کے تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے سب ہی کے بل کس دیے ہیں حتیٰ کہ موجودہ اتحادی حکومت کے بے لوث کارکنان بھی اس بحران پر انگشت نما ہیں یہ درست ہے کہ یہ بحران دو ڈھائی ماہ کی حکومت کا پیدا کردہ نہیں اس کے پیچھے سابقہ حکومت کی نااہلی کا بڑا دخل ہے اور موجودہ حکومت کچھ مشکل فیصلوں کی وجہ سے اپنی سیاسی ساکھ داو پر لگا بیٹھی ہے اور مستقبل قریب میں اس حکومتی اتحاد کو اس کی ایک بڑی سیاسی قیمت چکانا ہوگی جبکہ سابقہ حکومت اپنی نا اہلی کی پردہ پوشی کی غرض سے روزانہ کی بنیاد پر مختلف سیاسی مطالبات اور احتجاج کی راہ اپنائے ہوئے ہے اور انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس ہٹ دھرمی کا نتیجہ بہت بھیانک بھی ہو سکتا ہے اور ملک آئینی بحران کے ساتھ ساتھ معاشی ماہرین کے مطابق دیوالیہ یا اس کے قریب جا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کے موجودہ حکومت کے مشکل فیصلے مہنگائی کا سبب بنے کہنا یوں چاہیے کہ انہوں نے وہ مشکل فیصلے کیے ہی نہیں جن کی ضرورت ہے اور من حیث القوم ہمیں ان فیصلوں کو قبول بھی کرنا چاہیے وہ چند مشکل فیصلے کیا ہوں آئیے دیکھتے ہیں۔
1۔ رات دس کے بعد ہر قسم کا کاروبار بشمول نان بائی بیکری میڈیکل اسٹور دودھ دہی کی دکانیں مکمل بند ہونا چاہیے کیونکہ چند دکانوں کا کھلا ہونا اور چند کا بند ہونا نا اتفاقی کی بنیاد بن کر احتجاج کے مواقع پیدا کرتا ہے اور اس طرح کی تفریق اہداف کے حصول میں ہمیشہ مانع رہتی ہے جب تمام کاروبار مقررہ اوقات میں ہوں گے تو لوگ اس کے عادی ہو جائیں گے اور اپنے آپ کو اس سانچے میں ڈھال لیں گے آخر کورونا اور جنرل مشرف کے زمانے میں گھڑیوں کو ایک گھنٹہ اگے پیچھے کر کے قوم کو نظم و ضبط کا پابند کیا جاچکا ہے۔ تمام کاروبار کی جلدی بندش سے لوگوں کو زیادہ آرام کا موقع ملے گا ان کی ٹینشن میں کمی اور صحت میں بہتری آئیگی نیز یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ جلد سونے کے نتیجے میں صبح فجر کی نماز میں نمازیوں کی تعداد میں اضافے کے سبب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوگا۔
2۔ سوائے ایمبولینس کوئی گاڑی حتیٰ کہ موٹر سائیکل تک سڑکوں پر نہ آئے۔
3۔ ہائی ویز پر سفر جاری رہے مگر رات دس سے پہلے سواریاں اپنے مقام پر پہنچا دی جائیں۔
4۔ ریل گاڑیوں اور اندرون و بیرون ملک ہوائی سفر کرنے والے رات دس کے بعد اپنی گاڑیاں استعمال کریں تو انہیں اپنا ریل یا ہوائی سفر کا ٹکٹ ناکوں پر دکھانا ہوگا۔ واپسی کے لیے ائرپورٹ پارکنگ ٹوکن یا پلیٹ فارم ٹکٹ دکھانا ضروری کیا جائے اس طرح ٹول کی مد میں ملکی آمدن میں بہت نہیں تو کچھ اضافہ ضرور ہوگا۔
5۔ رات دس بجے کے بعد اسٹریٹ لائٹس بھی بند ٹوٹل بلیک اوٹ کیا جائے بجلی کی بچت ہوگی، مشکل فیصلے کرنا ہے تو پھر کریں۔ دو ماہ تک مسلسل ہفتہ یا اتوار ملک میں مکمل کرفیو، ہر طرح کے سفر ماسوائے ہائی ویز، ہوائی سفر اور ٹرین کا سفر مکمل پابندی اور اس کے لیے وہی طریقہ استعمال ہو جو تجویز کیا گیا ہے۔
مندرجہ بالا ناگزیر اقدامات سے پٹرول، گیس، بجلی کی بچت کی جا سکتی ہے جو مہنگائی میں اضافے کی کلید ہیں اندرون و بیرون ملک مقیم ماہرین معاشیات اور شعبہ شماریات سے اس پر سنجیدگی کے ساتھ رائے مانگی جانی چاہیے کے ان اقدامات سے ملک کو بحران سے باہر نکالنے میں کس حد تک مدد مل سکتی ہے ہم تو اس پر دسترس نہیں رکھتے تاہم ہم چند دوست کل شام ایک حساب یہ ضرور کر رہے تھے کہ کراچی میں چلنے والی موٹر سائیکلوں کی تعداد اگر صرف 50 لاکھ لگا لی جائے اور اس میں استعمال ہونے والا پٹرول آدھا لیٹر فی موٹر سائیکل تو 25 لاکھ لیٹر پٹرول کی مالیت پاکستانی روپوں میں 58 کروڑ پچاس لاکھ اور امریکن ڈالرز میں 27 لاکھ 50 ہزار بنے گی جو ایک دن کرفیو کے نتیجے میں بچائی جا سکتی ہے ملک کے طول و عرض میں پھیلے مختلف قصبہ دیہات اور شہروں میں موجود دیگر چھوٹی بڑی گاڑیاں اس کے علاوہ ہیں جن کا شمار اور پٹرول کی بچت کا حساب کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں مگر یہ کہنا کے عام آدمی معیشت سے نا بلد ہے غلط ہوگا اس کا حساب اور شمار بے حد پکا ہوتا ہے اسے اپنے اوپر آئی مہنگائی کے بوجھ کا سبب اور وجوہات کا خوب خوب ادراک ہوتا ہے اس کی مجبوری بس صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ملک کی اشرافیہ کی نظر میں وہ ایک کم عقل مظلوم و معصوم شہری جبکہ ایک طبقہ خاص کی نگاہ میں وہ بلڈی سویلین ہے اس کا کام صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اشرافیہ کے ہر مشکل فیصلے کے لیے بس اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کرتا رہے یہ سوال نہ کرے کے تمام مشکل فیصلوں کا بوجھ صرف اس پر کیوں؟ ان پر کیوں نہیں جو ان کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچتے ہیں اور جو ان کے ٹیکس اور ان کی خون پسینہ کی کمائی سے ملک میں سب سے زیادہ اثر رسوخ رکھتے ہیں اور عام فہم زبان میں جنہیں می لارڈ اور عزت مآب کہہ کر پکارا جاتا ہے جنہیں ہم کبھی سول سرونٹ اور کبھی بیوروکریٹس کہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ جو اسٹیبلشمنٹ کے نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔
چونکہ ہم ایک زرعی ملک ہیں ہمیں اپنی زراعت کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا چاہیے مگر دیکھا یہ جا رہا ہے کہ ہائی ویز اور موٹر ویز کے اطراف لاکھوں ایکڑ زمین پر ہائوسنگ سوسائٹی کی تعمیرات جاری ہیں جس کے باعث زرعی شعبہ کی پیدوار کم ہوتی جارہی ہیں نیز ہائی ویز و موٹر ویز پر سفر کرنے والوں کو قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کے مواقع ختم اور سب سے بڑھ کر شہری آبادی کے چونچلوں کے باعث اطراف کی زرعی زمینوں پر آلودگی پھیلنے کے باعث فی ایکڑ پیداوار میں کمی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
چاول، گنا اور گندم کی پیدوار میں کمی کی ایک اور وجہ ان زرعی زمینوں کی فروخت بھی ہے لوگ شہری آبادی کو حاصل سہولتیں اور مراعات دیکھ کر خود کے لیے بھی اس سہولت کی خواہش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنی آبائی زمینیں فروخت کر کے شہروں کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے شہر کے مسائل جن میں بے روزگاری اور بد امنی اضافہ ہو رہا ہے۔ مشکل فیصلوں میں ایک فیصلہ سختی کے ساتھ اس منتقلی کو روکنا بھی ہونا چاہیے تاکہ ہماری زراعت پروان چڑھے اور شہروں میں آبادی کو بوجھ بڑھنے نہ پائے جس کے لیے وہ تمام بنیادی سہولتیں ملک بھر کے قصبوں و دیہات تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے دیہات، دہقان اور کسان سلامت رہیں اور ہماری زراعت چلتی رہے یہ ان کا حق اور ہر حکومت کی ذمے دادی بھی ہے۔
ہمارے ملک میں بحران کی ایک وجہ ہماری مادر پدر آزادی بھی ہے نہ تو ہم کسی نظم و ضبط کے پابند ہیں اور نہ ہی ہمیں پابندی کرنا سکھایا جاتا ہے قانون کی عملداری نام کے کوئی چیز ہماری فطرت میں نہیں ہر مشکل فیصلوں پر ہماری ازاد اور بے باک صحافت کی بلاوجہ کی تنقید بحث مباحثہ ٹاک شوز خود ساختہ معاشی و سیاسی ماہرین اینکر پرسن دفاعی تجزیہ کار کی آراء اور بونگیاں اور سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا لوگوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں اور انہیں بغاوت پر اکساتے ہیں جس کی بیخ کنی ہونی چاہیے تمام سیاسی رہنما چھوٹے بڑے طاقتور اور قد آور جو بھی ملکی سالمیت اس کی ہیئت اور اداروں کے خلاف بات کرے ان کی تقاریر اور بیانات کو خبروں کا حصہ بنانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ مشکل فیصلوں کو اگر قابل عمل بنانا ہے توکچھ پابندیاں اس آزاد بکاؤ صحافت اور سوشل میڈیا پر بھی کسی رعایت کے بغیر کچھ عرصہ تک لگا دینی چاہیے تاکہ عمل درامد کی صورت پیدا ہو۔