طویل عرصے بعد برآمدات میں کمی ریکارڈ

238

کراچی: طویل عرصے بعد ملکی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، گزشتہ ماہ مئی کے دوران ملکی برآمدات میں اپریل کے مقابلے میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ مجموعی برآمدات کا حجم 2.62 ارب ڈالر رہا جو اس سے پچھلے ماہ اپریل میں 2.89 ارب ڈالر تھا، وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادو شمار کے مطابق مئی میں سبزیوں، گوشت، لیدر، اسپورٹس اور ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ چاول، سی فوڈ اور پھلوں میں اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ ملکی برآمدات میں گزشتہ ایک سال سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کا اندازہ رواں مالی سال کے 11 ماہ کے اعدادو شمار سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق جولائی 2021 تا مئی 2022 ملکی برآمدات میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس رجحان کو دیکھتے ہوئے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ مئی میں برآمدات میں کمی کیوں آئی ہے اور کیا یہ کمی عارضی ہے یا آئندہ مہینوں میں بھی یہ رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔

پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمد جاوید بلوانی نے اس ضمن میں بتایا کہ امریکا، یورپ سمیت کئی ممالک میں کساد بازاری بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے برآمدی آرڈرز گھٹ رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں بیشتر برآمدات خاص طور پر ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی کا سلسلہ برقرار رہے گا۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے بھی پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جس کا اثر برآمدات میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، لیدر سمیت بعض اشیا کی برآمدات میں جہاں کمی آئی ہے وہاں چاول کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ سابق چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن رفیق سلیمان کے مطابق چاول کے آرڈرز میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ چاول کے زیر کاشت رقبے کو بڑھایا جائے تاکہ مزید برآمدات بڑھائی جاسکے۔

برآمد کنندگان نے بتایا کہ غذائی اشیا کے آرڈرز میں کوئی کمی نہیں آئی، پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق روس اور یوکرین جنگ کے باعث دونوں ممالک اپنی خوراک کا اسٹاک بڑھارہے ہیں جبکہ کئی اور ممالک میں بھی فوڈ سیکیورٹی کے تحت زیادہ غذائی اشیا خریدی جارہی ہیں۔