چائلڈ لیبر دنیا میں ایک بڑھتی ہوئی لعنت ہے،عارف علوی

412
Child labor

اسلام آباد:صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ چائلڈ لیبر دنیا میں ایک بڑھتی ہوئی لعنت ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اور پاکستان اس بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کا شکار ہیں۔

اپنے بیان میں صدر مملکت  کا کہنا تھا کہ 12 جون کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے شعور بیدار کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔ دن منانے کا مقصد اسٹیک ہولڈرز کو اس سماجی برائی کے خلاف بات کرنے کی ترغیب دینے اور چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔ چائلڈ لیبر دنیا میں ایک بڑھتی ہوئی لعنت ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اور پاکستان اس بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کا شکار ہیں۔

عارف علوی کا کہنا تھا اکہ مختلف کارخانوں، کاروباری اداروں، زراعت اور گھروں میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے بچے اپنے بچپن سے محروم ہو جاتے ہیں۔ چائلڈ لیبر بچوں کو بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی سے محروم کر دیتی ہے، بچوں کو نقصان دہ اور خطرناک ماحول میں کام کرنا پڑتاہے اور وہ بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ چائلڈ لیبر بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہے، ان کے وقار کو مجروح کرتی ہے۔  چائلڈ لیبر سے بچے اسکول جانے سے محروم ہو جاتے ہیں، بچوں کو مشکل کام پر مجبور کرتی ہے۔ پاکستان چائلڈ لیبر کی تمام صورتوں میں روک تھام کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر قائم ہے۔

عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ ہر بچے کو تعلیم اور بہتر صحت کا حق حاصل ہے، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے بچوں کو بھی اپنے اردگرد محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔  پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 11 (3) اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ کسی فیکٹری، کان کوئی اور خطرناک کام نہیں کر سکتا۔