غزوہ خندق عظمت مزدور کا دن ہے ، شمس سواتی

487

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ محنت کی عظمت کا دن یوم خندق ہے، یہی وہ موقع ہے کہ انسانیت کی بقا کی جنگ لڑنے اور انسانیت کوسرداروں اور ظالموں سے بچانے کے لیے مدینہ میں جو اسلامی ریاست قائم کی گئی تھی امن، عدل، انصاف، بھائی چارے اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینے والی بستی کو بچانے اس کی حفاظت کے لیے خندق کھودی گئی تو رسول اللہؐ اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ خود بھی خندق کھود رہے تھے آپؐ کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ آپ کے ساتھیوں کی آپؐ سے محبت ایسی تھی جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی جب آپؐ وضو فرماتے تو آپ کے ساتھی اس پانی کو نیچے نہیں گرنے دیتے تھے اور یہی وہ موقع تھا کہ جب آپؐ نے روم اور فارس جواس وقت کی دوسپر پاور تھیں کے خاتمے کے پیش گوئی فرمائی جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔انسانیت کو ان سپر پاورز کے مظالم سے نجات مل گئی۔ مدینہ کی اسی چھوٹی سی بستی جس کی حفاظت کے لیے یہ خندق کھودی جارہی تھی چند ہی برسوں میں کئی براعظموں پر غلبہ حاصل کرلیا۔ یہ نظام قائم رہتا توشکاگو میں مزدوروں پرظلم کرنے کی کسی کو جرأت نہ ہوتی اور اس طرح کے واقعات کہیں بھی نہ ہوتے کیونکہ ظلم کی بنیادی وجہ اللہ کی بندگی اور محمد الرسول اللہؐ کی اطاعت وفرمانبرداری اور آپؐ کے لائے اور برپا کیے گئے نظام سے رو گردانی ہے۔ بدترین بادشاہت، سرمایہ دارانہ جاگیردارانہ نظام، ڈکٹیٹر شپ یا انسانوں کا بنایا کوئی بھی نظام روگردانی کہلاتا ہے۔ اسلام مذہب نہیں دین ہے دین کا مطلب نظام زندگی ہے جسے رسول اللہؐ نے نافذ کیا اور اپنے فرمودات پر عمل درآمد کیا کہ تمہارے ماتحت تمہارے بھائی ہیں، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو، انہیں کھانے اور پہننے کے لیے وہی دو جو تمہیں حاصل ہے اور انہیں اپنے منافع میں شریک کرو۔ اس طرح آپؐ نے عدل، انصاف اور مساوات پر مبنی نظام اور معاشرہ قائم کیا۔ تاریخ میں یا لمحہ موجود میں جس نے بھی ان اصولوں سے روگردانی کی خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں اسے اسلامی نظام، اسلامی معاشرہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اسی لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ محنت کی عظمت کا دن رسول اللہؐ کی نسبت سے یوم خندق کو قرار دیا جائے۔ یہی محنت کی عظمت کا دن ہے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے کا دن آقا و غلام کی تفریق مٹادینے کا دن جس سے انسانوں کو ایسی خوشحالی ملی کہ زکوٰۃ دینے والے لاکھوں تھے لیکن زکوٰۃ لینے والا ڈھونڈنے سے نہیں ملتا تھا۔ یہ اسلامی تہذیب اور کلچر ہے جس کی مثال دیگر نظاموں میں نہیں ملتی۔ سود کو اسی لیے حرام قرار دیاگیا کہ اسلام ایک ایسا نظام اور
معاشرہ قائم کرنا چاہتا جس کی بنیاد مادیت پر نہیں بھائی چارہ پر ہے۔ خیر خواہی کا ایسا جذبہ اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کا خیال رکھنا لیکن اسلام نے اسے فرد اور معاشرے کے اخلاق اور رضاکارانہ رویوں تک نہیں چھوڑا بلکہ نظام اور قانون کا پابند کیا کہ کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے کوئی کسی کا حق نہ مار سکے آقا اور غلام کی تفریق اس طرح مٹائی کہ وقت کے حکمران کی تنخواہ کاتعین ایسے کیا کہ وہ ایک عام مزدور کے برابر ہوگی اور اگر اس میں حکمران کا گزر بسر نہ ہوا تو مزدور کی تنخواہ بڑھا دی جائے گی۔ آج مزدور کسان اور پوری انسانیت جس ظلم کا شکار ہے مافیاز نے گھیر رکھا ہے ہر آنے والا دن انسانوں کو انسانی حقوق سے محروم کرنے میں سبقت لے رہا ہے۔ آج انسانیت کی بقا مزدوروں کسانوں پسے ہوئے انسانوں کے لیے نجات کاواحد راستہ محمدؐ کے ورلڈآرڈر کو اپنانے اور انسانوں کے بنائے اور مسلط ورلڈآرڈر سے بغاوت میں ہے۔

پ