حکومت کا پی ٹی آئی مارچ روکنے کا اعلان ،فوج طلب

332
لاہور/اسلام آباد: پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،چھوٹی تصاویر میںریڈزون جانیوالی شاہراہ کو کنٹینر و خاردار تاریں لگا کر مکمل بند کردیا گیا ،پولیس اہلکار آنسو گیس گن اٹھائے مورچوںکی جانب جارہے ہیں

اسلام آباد/لاہور(صباح نیوز+نمائندہ جسارت) وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں فوج طلب کرلی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اور سیاسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے امن و امان کی صورتحال اور اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں احسن اقبال،مریم اورنگزیب،خرم دستگیر،اعظم نذیر تارڑ،ریاض پیرزادہ شریک ہوئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکا جائے گا اور ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا جبکہ ہر غیرقانونی کام کا راستہ روکا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا، امن وامان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کسی قسم کے تشدد یا اشتعال انگیزی پرقانون حرکت میں آئے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ دھرنے سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پرمن وعن عملدرآمد ہوگا اور مفاد عامہ کے لیے تمام راستے کھلے رکھیں گے، کسی قسم کے تشدد یا اشتعال انگیزی پر قانون حرکت میں آئے گا۔اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈے معیشت کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں، ایسے دھرنوں سے معیشت خراب اور دیہاڑی دار مزدور متاثر ہوگا۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے کیے ملک گیرکریک ڈاؤن جاری ہے ،مختلف شہروں سے سیکڑوں کارکنان کو زیر حراست میں لے لیا گیا ہے،پی ٹی آئی رہنماؤںکی اکثریت روپوش ہوگئی ہے ،محمود الرشید کے سوا کوئی سرکردہ رہنما گرفتار نہیں ہوسکا۔لاہور کے علاقے ماڈل ٹائون میں پولیس آپریشن کے دوران گھر کی چھت سے فائرنگ میں پولیس کانسٹیبل شہید ہو گیا ۔ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان کے خلاف ریڈ کیا جا رہا تھا۔ اس دوران تحریک انصاف کے کارکن کے گھر کی چھت سے فائر کیا گیا پولیس نے ساجد بخاری کی رہائش گاہ 112 سی ماڈل ٹائون پر ریڈ کیا تھا۔کانسٹیبل کمال احمد کو چھاتی میں گولی لگی جسے اسپتال لے جایا گیا جو جانبر نہ ہو سکا۔ پولیس نے فائرنگ کے الزام میں باپ اور بیٹا کو اسلحے سمیت گرفتار کر لیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ باپ بیٹا فائرنگ کا اعتراف کررہے ہیں، فرانزک کے بعد ملزمان کی نشاندہی ہو جائے گی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق کانسٹیبل کمال تھانہ ماڈل ٹائون میں فراض سرانجام دے رہا تھا۔کانسٹیبل نے اپریل2007ء میں پولیس فورس جوائن کی تھی۔ کانسٹیبل کمال گرین ٹائون بلاک نمبر3کا رہائشی تھا۔ انہوں نے سوگواران میں 3 بیٹے 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے جاں بحق کانسٹیبل کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے انسپکٹر جنرل پولیس سے واقعہ سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ۔ علاوہ ازیں کانسٹیبل کو فائرنگ کرکے شہید کرنے والے باپ بیٹا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ۔قبل ازیں وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ کے نام پر فتنہ و فساد قوم کو تقسیم کرنے کی سازش ہے، یہ لوگ گالیوں سے گولیوں پر آگئے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں پولیس اہلکار شہید ہوا، ویسے تو پی ٹی آئی قیادت بہت بہادر بنتی ہے اور اب ساری گھروں سے غائب ہوکر پشاور میں جابیٹھی ہے، یہ لوگ وہاں سے صوبائی فورسز لے کر بڑے جتھے کی صورت میں وفاق پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں ،نالائق ٹولہ خونی مارچ کے بیانات دیتا رہا جو کہ ریکارڈ پر ہیں، یہ لوگ جس آزادی مارچ کی بات کررہے ہیں وہ خونی مارچ ہے اس لیے انہیں لانگ مارچ سے روکا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے اگر یہ لوگ اسے خونی مارچ کا نام نہ دیتے تو ہم انہیں مارچ کرنے سے نہیں روکتے، یہ لوگ پرامن مارچ کے لیے نہیں آرہے بلکہ فتنہ و فساد پھیلانے آرہے ہیں، اب وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کا لانگ مارچ روکا جائے۔قبل ازیں اپنے بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اسلام آباد کی طرف خونی مارچ کا اعلان کرنے والوں کا حساب لیں گے، ماڈل ٹاؤن میں فائرنگ کے باعث قتل ہونے والے پولیس اہلکار کے خون کے ذمہ دار عمران خان اور شیخ رشید ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پولیس پر فائرنگ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ سیاسی سرگرمی نہیں، عمران خان اور ان کے حواری پرامن مارچ نہیں چاہتے، گالیاں برسانے والوں نے اب گولیاں برسانا شروع کردی ہیں، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا ہے جس کا جواب دینا ہوگا۔رانا ثنااللہ کے بقول بے گناہ پولیس اہلکار کمال احمد کے سینے میں لگی گولی ثبوت ہے کہ عمران خان دہشت گرد ہے، وہ مارچ کی آڑ میں ملک میں خانہ جنگی کی سازش کررہے ہیں۔وفاقی وزیر نے یہ بھی کہ پولیس اہلکار کمال احمد کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے، ملک میں خانہ جنگی، افراتفری، فساد اور انتشار کو قانون کے راستہ روکنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شہید اہلکار کے اہلخانہ کی کفالت اور بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت لے گی، شہید کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ عوام کے جان ومال کی حفاظت کا فرض پورا کریں گے۔علاوہ ازیں وزارت داخلہ نے ریڈ زون کی سیکورٹی کے لیے فوج کو طلب کرلیاجبکہ اسلام آباد میں 2ماہ کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ کردی گئی ۔ذرائع کے مطابق ریڈ زون کی تمام سیکورٹی فوج کے حوالے کی جائے گی جس کے تحت وزیراعظم ہائوس، وزیر اعظم آفس، ایوان صدر اور عدالت عظمیٰ پرفوج تعینات ہوگی۔ذرائع نے بتایاکہ کابینہ ڈویژن سمیت دیگر سرکاری عمارتوں پر بھی فوج تعینات ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایف سی کی خدمات طلب کر لی ہیں جس کے تحت ایف سی کے 2ہزار اہلکار اسلام آباد میں فرائض انجام دیں گے۔دوسری جانب اسلام آباد میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ کردی گئی ہے اور دفعہ 144 کا دائرہ ایک کلو میٹر تک بڑھادیا گیا ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے جس تحت پنجاب سے اسلام آبا دجانے والے تمام راستے سیل کردیے گئے ہیں۔مزید برآں پنجاب بھر میں موبائل فون سروس کی بندش کا فیصلہ کرلیاگیا ہے جب کہ راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس سروس بھی بند کردی گئی ہے ۔