لانگ مارچ عوامی جذبات کا مظہر ہے ،حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کرسکتی ہے

202

کراچی (رپورٹ: خالد مخدومی) لانگ مارچ عوامی جذبات کا مظہر ہے‘ حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کرسکتی ہے‘عمران خان کے اسلام آباد پہنچتے ہی اسمبلیاں تحلیل اور انتخابات کی تاریخ آجائے گی‘ عوام گرفتاریوں اور چھاپوں سے نہیں ڈرتے ‘ناکامی شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا مقدر ہے‘ فاروق لغاری کے ہاتھوں بینظیر حکومت کا خاتمہ قاضی حسین کے اسلام آباد دھرنے کا نتیجہ تھا۔ ان خیالات کا اظہار ق لیگ کے رہنما اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی، تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی آفتاب جہا نگیر صدیقی، ممتاز تجزیہ نگار سہیل وڑائچ، انسٹیٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ کے سربراہ پرو فیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد، ممتاز صحافی حبیب اکرام اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما جلال الدین ایڈووکیٹ نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا عمران خان کا لانگ مارچ کامیاب ہوگا؟‘‘ آفتاب جہا نگیر صدیقی نے کہا کہ عمران خان کا لانگ کامیا ب ہوگا‘ امپورٹڈ حکومت کے خوف کا یہ عالم ہے کہ اس نے تحر یک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارنے شروع کردیے جس میں خواتین اور بچے، بچیوں کا احترام ملحوظ خاطر نہیں رکھا جا رہا ہے‘ گرفتاریوں اور چھاپوں سے کارکنان کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں‘ ہمارا مطالبہ یہ نہیں کہ عمران خان کو وزیراعظم بنا دو‘ پی ٹی آئی کو حکومت دے دو‘ ہم کہتے ہیں کہ عوام کو فیصلہ کرنے دو‘ آپ طاقت سے ملک کو بند کرسکتے ہیں لیکن چلا نہیں سکتے‘ طاقت اور اختیار اس کو دو جس کو عوام چنیں‘ عوام اگر چوروں کو منتخب کرتے ہیں تو عوام کا فیصلہ بھی قبول کریں گے‘ معیشت روز بروز تنزولی کا شکار ہے‘ پہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے‘ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے کونے کونے سے لوگ اس مارچ میں شرکت کریں گے‘ اس کے علاوہ آزاد کشمیر سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد آئے گی‘ ممکنہ طور پر پنجاب سے 10 سے 15 لاکھ لوگ آ سکتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا اور ملک کے دوسرے علاقوں سے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس مارچ میں شرکت کرے گی‘ رہنماؤں کی گرفتاری ہوئی تو حکومت کو ہر طرح کے ردعمل کے لیے تیار رہنا چاہیے‘ ہمارا مارچ ایک انقلابی عمل ہے اور انقلابی عمل میں تو لوگ اپنی جانوں کی پروا بھی نہیں کرتے تو گرفتاریوں اور جیلوں کی کیا حیثیت ہے‘ عوامی جذبات ختم ہونے تک تحریک جاری رہتی ہے‘ اب یہ ہی لائن ہے کہ آپ عمران خان کے ساتھ ہیں یا مخالف ہیں‘حکمران لانگ مارچ کا راستہ نہیں روک سکتے جلد اہم فیصلے ہوں گے‘ ایسا حل نکالا جائے گا کہ معاشی، سیاسی اور انتظامی بحران سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگا‘ عمران خان کے اسلام آباد پہنچتے ہی اسمبلیاں تحلیل اور نئے انتخابات کی تاریخ آجائے گی‘ ملک کو نئے انتخابات کی ضرورت ہے، ہم اسی طرف جا رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ عمران خان کے پاس یہ ہی آپشن ہے کہ وہ عوام کو منظم کریں‘ تحریک چلائیں اور دباؤ ڈالیں جس سے ایک تو اپنا ووٹ بینک تیار کریں اور دوسرا انتخابات جلد کرانے کی کوشش کریں‘ اگر وہ اگست یا ستمبر تک انتخابات کروانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ پی ٹی آئی کی بڑہ فتح ہوگی۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بڑے منفرد تجربے سے گزر رہا ہے ‘اس ملک میں بڑے پیمانے پر جو سیاسی تحریکیں چلتی ہیں‘ ان کی کامیابی کے پس پشت صرف سیاسی عوامل نہیں ہوتے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا کردار بھی ہوتا ہے‘ اس کے باوجود موجودہ صورتحال غیر معمولی ہے ‘ اداروں پر شخصیت کو ترجیح دینے کے رویے، قوم پرستی، بعض اہم فیصلوں پر اداروں کا یکسو نہ ہونا، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو کسی بڑے ہیجان اور تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں مارچ اور لانگ مارچ ہمیشہ کامیاب ہی ہوئے ہیں‘ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے خلاف لانگ مارچ کیا تھا اور وہ کامیابی سے ہمکنار ہوا جبکہ نواز شریف نے بے نظیر کے خلاف تحریک نجات شروع کی تھی اور اس کو بھی کامیابی ہوئی، بالکل اسی طرح نواز شریف نے پچھلی پی پی پی حکومت کے دور میں چیف جسٹس (ر) افتخار چودھری کی بحالی کے لیے مارچ کیا تھا اور ابھی مارچ منزل مقصود پر بھی نہیں پہنچا تھا کہ مطالبہ منظور کر لیا گیا تھا‘ اسی طرح فاروق لغاری کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کا خاتمہ قاضی حسین کے اسلام آباد دھرنے کا نتیجہ تھا‘ جس طرح عمران خان نے بڑے بڑے جلسے کر کے اپنی عوامی قوت کا مظاہرہ کیا ہے اس سے اس بات کا امکان ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کر لے گی اور انتخابات کا اعلان ہوجائے گا‘ اس مارچ میں اسلام آباد کے قریبی علاقے جیسے پشاور، صوابی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، راولپنڈی ڈویژن اور آزاد کشمیر کا بڑا اہم کردار ہوگا‘ عمران خان پشاور سے لانگ مارچ کی قیادت کریں گے‘ اس لیے خیبر پختونخوا سے اس مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے لیکن پنجاب میں ہونے والے جلسے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ پنجاب سے بھی ایک بڑی تعداد اس مارچ میں شرکت کرے گی۔ جلال الدین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ یہ مارچ آئی ایم ایف سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے‘ پہلے عمران خان نے معیشت کو تباہ کیا اور اب اگر حکومت اس کو آئی ایم ایف سے بات چیت کر کے بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو یہ اس کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں‘ حکومت کو پی ٹی آئی کی بلیک میلنگ میں نہیں آنا چاہیے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شہباز شریف، حمزہ شہباز جتنا مرضی زور لگا لیں آزادی مارچ کو نہیں روک سکتے‘ راستوں کی بندش عوامی جذبات کو نہیں روک سکتی‘ کارکن ہر حال میں اسلام آباد پہنچیں گے اور وہاں سے انتخابات کی تاریخ اور قومی اسمبلی کی تحلیل کا حکم نامہ لے کر اٹھیں گے۔