یاسین ملک کی سزاکے خلاف مقبوضہ کشمیر میں احتجاج

121

نئی دلی/سرینگر (اے پی پی /آن لائن) حریت رہنما یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں مجرم قراردینے کے خلاف آج (بدھ کو ) سزا سنائی جائے گی۔ مقبوضہ وادی میں دکانیں، کاروباری مراکز اورتعلیمی ادارے بند،سڑکیں سنسان رہیں ۔ یاسین ملک کی سزا کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور بھارتی حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ محمد یاسین ملک کو جمعرات کو بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی عدالت نے 2017میں درج کیے گئے ایک جھوٹے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔ادھر نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میںبند یاسین ملک کو ان کے خلاف 1987 اور 1988میں قائم کیے گئے جھوٹے مقدمات کی سماعت کے لیے منگل کوسرینگر کی ٹاڈا عدالت میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش کیاگیا ۔یاسین ملک نے اس موقع پر اپنے وکلاایڈووکیٹ میر عرفی، ایڈووکیٹ بشیر صدیق اورایڈووکیٹ غلام نبی شاہین سے بات کرتے ہوئے اپنے خلاف جھوٹے الزامات کے تحت قائم مقدمہ میں دفاع نہ کرنے کے دلی کی این آئی اے کی عدالت میں اختیار کیے گئے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ ادھرجموں وکشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو سرینگر میں ان کے گھرمیں نظربند کردیا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے اپنی رہائش گاہ پر پارٹی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انہیں گھرسے باہر نکلنے نہیں دیاجارہا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے گھر اور دفتر کے باہر کتنی بڑی تعداد میں بھارتی فورسز کے اہلکاروںکو تعینات کیاگیا ہے ۔علاوہ ازیںگرفتار کشمیری صحافی فہد شاہ کو کپواڑہ سب جیل سے جموں جیل منتقل کر دیا گیاہے۔فہدشاہ کوزیر تسلط علاقے میں جعلی مقابلوں میں شہید ہونے والے کشمیریوں کے اہلخانہ کا موقف شائع کرنے پر کالے قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیاگیا تھا ۔ ایک کشمیری دانشور اعلی فاضلی بھی اسی کالے قانون کے تحت قید ہیں۔