تاجر برادری تجارت کی نئی راہیں تلاش کرے ، کورین سفیر

122
ایف پی سی سی آئی کیـ’’ پاک کوریا بزنس کونسل‘‘ کے اجلاس میںکوریا کے سفیر سو سانگ پیو، قونصل جنرل کم ہیک سنگ اور دیگر کاگروپ فوٹو

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) کوریا کے سفیر سو سانگ پیو نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کی تاجربرادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ملکوں میں تجارت کی نئی راہیں تلاش کریں اس حوالے سے کورین سفارتخانہ بزنس ٹو بزنس میٹنگز کے انعقاد میں بھرپور معاونت کرے گا۔ یہ بات انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری( ایف پی سی سی آئی) کی”پاکستان کوریا بزنس کونسل” کے کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اجلاس میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں کوریا کے قونصل جنرل کم ہیک سنگ، چیئرمین پاکستان کوریا بزنس کونسل سہیل نثار،ڈائریکٹرز وممبرز عابد نثار،حسن سہیل، ہلال آفریدی،سہیل عثمان، افتخار اشرف، مزمل سہیل،شہزاد اسلم،سلیم گوڈیل، بابر خان، نوید مظہر بھی شریک تھے۔کورین سفیر نے پاکستان کے انرجی اور آئی ٹی کے شعبوں کو جوائنٹ وینچرز اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش قرار دیتے ہوئے کہاکہ کہ کورین سرمایہ کار پاکستان میں انرجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔کوریا کی مہارت سے مستفید ہو کر پاکستان توانائی کے بحران پر باآسانی قابو پا سکتا ہے نیز آئی ٹی کی خدمات کی برآمدات سے اپنی معیشت کو بھی تیزی سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرسکتا ہے۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی کی پاک کوریا بزنس کونسل کے چیئرمین سہیل نثار کی دونوں ملکوں کے مابین باہمی تجارت کو فروغ دینے کی کوششوں کو بھی سراہا اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ایف پی سی سی آئی کی پاکستان کوریا بزنس کونسل کے12سالوں سے مسلسل چیئرمین سہیل نثار نے کہا کہ دنیا کی نویں بڑی معیشت کوریا پاکستان کا ایک قابل بھروسہ اور مضبوط پارٹنر ہے۔ کوریا پاکستان میں کم ازکم ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اگر دونوں جانب سے باہمی تجارت کو فروغ دینے کی حقیقی صلاحیتوں کے مطابق کوششیں کی جائیں تو پاکستان اور کوریا کی معیشتوں کو نہ صرف زبردست فوائد حاصل ہوں گے۔کوریا پاکستان کے ساتھ تقریباً50اسمال اسکیل یونٹس لگانے اور جوائنٹ وینچرز کا خواہش مند ہے۔ کورین تاجربجلی سے چلنے والی موٹر بائیک، رکشے، گاڑیوں میں بھی جوائنٹ وینچرز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔