روپے کی قدر میں 32فیصد کمی آگئی ، میاں زاہد حسین

92

کراچی(اسٹاف رپورٹر)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام اورسخت فیصلوں کے بغیرروپے کے زوال کوروکنا ناممکن ہے۔ غیرمقبول فیصلے کیے بغیرروپے کواستحکام دینے کی ساری کوششیں خود فریبی اوروقت کا ضیاع ثابت ہوں گی۔گزشتہ ایک سال میں امریکی ڈالرکے مقابلہ میں روپے کی قدرمیں بتیس فیصد کمی آچکی ہے اوریہ سلسلہ رکنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ روپے کے بے قدری میں ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال، امپورٹ بل میں زبردست اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ، زرمبادلہ کے ذخائرکی غیرتسلی بخش صورتحال، آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیراورسیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پٹرولیم سبسڈی بھی روپے کی کمزوری کا سبب ہے جس پرکوئی فیصلہ نہ کرنا ملکی معیشت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ ڈالرکی قدرمیں کمی کے لیے مرکزی بینک اوردیگراداروں کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات وقت اورسرمائے کا ضیاع ہیں کیونکہ معیشت بہتربنانے کے لیے قوانین میں رد وبدل اورکرنسی ڈیلرزپرچھاپے مارنے کے بجائے پالیسیوں کوبہتر بنانا پڑے گا۔ڈالرپرجتنی پابندی لگائی جائے گی اس سے اس کی ذخیرہ اندوزی میں اتنا ہی اضافہ ہوگااوراسے فروخت کرنے والے خریداروں سے معمول سے زیادہ منافع لیں گے۔ ڈالرکی صورتحال کا براہ راست تعلق دوہا میں ہونے والے آئی ایم ایف مذاکرات سے ہے جس کا بنیادی نکتہ توانائی کی سبسڈی کا خاتمہ ہے جبکہ حکومت موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر یہ کڑوا گھونٹ پینے کوتیارنہیں ہے کیونکہ اس کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا ہوگی۔اگریہ مذاکرات ناکام ہوگئے توپاکستان کوسری لنکا بننے سے روکنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ ان حالات میں اگلا بجٹ بنانا بھی ایک چیلنج ہوگا جبکہ نئے بجٹ میں اب صرف 15 دن رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں تمام سیاسی پارٹیوں کوچائیے کہ ملک کے عظیم تر مفاد میں عدم استحکام میں اضافہ کے بجائے اس میں کمی کریں اور مل بیٹھ کر کر آئندہ انتخابات سے متعلق مسائل اور دیگر تفصیلات طے کریں ورنہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔