مشاورت کے بغیر فارمیسی ایکٹ 1967 میں ترمیم قبول نہیں کر ینگے‘ اسحاق میو

141

لاہور: مرکزی چیئر مین آل پاکستان فارمیسی کالجز ایسوسی ایشن پروفیسر بابازادہ اسحاق میونے اپنے جاری بیاں میں کہا ہے کہ پورے پاکستا ن میں فار میسی پر فیشن کو کنٹرو ل کر نے کیلئے فار میسی ایکٹ1967میں بنا جس کے تحت پوری پاکستان میںفارمیسی اور فارمیسی اسسٹنٹ فارمیسی اور فارمیسی میڈیکل سٹور چلا رہے ہیں اسی ضمن میں فیکٹر یاں بھی بنی ہو ئی ہیںڈسٹی بیو شن بھی بنی ہو ئیں ہیں اب فارمیسی ایکٹ 1967میںتر میم کا بل سینٹ میں پیش کیاجا چکا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنا لو جی کے چیئرمین سینیٹر مشتاق احمد نے یہ بل پیش کیا ہے اس بل میں بڑا واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ کسی بھی اسسٹنٹ فارمیسی کی بی اور سی کیٹگری کوختم کردیا گیا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ اس قانون کی وجہ سے پورے پاکستان میں جو میڈ یکل سٹور ہیںوہ یک لخت ختم ہو جا ئیں گے ان کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی اور بے روز گاری کانیا سیلا ب آئے گا، آل پاکستان کیمسٹ ریٹلرز ایسو سی ایشن اس ترمیمی بل کی بھر پور مخا لفت کر تی ہے اس بل میں جو جا ئز با تیں ہے ضرور مانی جا ئیں ہم حکومت وقت اور پارلیمنٹر ین سے اپیل کر تے ہیں۔

کہ اس بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے اوراگر تر میم نہا یت ضروری ہے تو آل پاکستان کیمسٹ ریٹلرز ایسو سی ایشن اور اسٹیک ہو لڈر کی مشاور ت سے قدم اٹھا یا جائے۔آل پاکستان کیمسٹ ریٹلرز ایسو سی ایشن اور اسٹیک ہو لڈر کی مشاور ت کے بغیر فار میسی ایکٹ1967میں تر میم قبو ل نہیںکر ینگے۔