!عدالت عظمیٰ کا منقسم فیصلہ

489

صدارتی ریفرنس کے جواب میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ نے تین دو کی نسبت سے اپنے منقسم فیصلے (Split Judgment) کا منگل کی شام کو اعلان کیا ہے، اگرچہ اس کے بارے میں ماہرین کی متضاد آراء سامنے آرہی ہیں کہ یہ عدالت عظمیٰ کا باقاعدہ فیصلہ ہے جو نافذ العمل ہوگا یا صدارتی ریفرنس کے جواب میں رائے ہے اور حکومت ِ وقت کی مرضی پر منحصر ہے کہ اُسے قبول کرے یا نہ کرے، کیونکہ اکثریتی فیصلے میں آرڈر کے بجائے ’’In our view (ہماری رائے میں)‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، تاہم یہ آئینی اور قانونی ماہرین کا موضوع ہے، ہم اس بحث میں نہیں پڑتے۔ اس سے قطع نظر کہ آج اس فیصلے سے مستفید ہونے والا (Beneficiary) کون ہے اور آنے والے کل کون ہوگا، کیونکہ پوزیشنیں بدلتی رہتی ہیں، ہم صرف نظری بنیادوں پر (Theoretically) اس فیصلے پر گفتگو کر رہے ہیں، کیونکہ اعلیٰ عدالتوں نے بارہا یہ کہا ہے: ’’عدالتی احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے عدالتی فیصلے سے اختلافِ رائے کیا جاسکتا ہے‘‘۔
ہماری رائے میں عدالت عظمیٰ کے منقسم فیصلے میں منحرف رکنِ اسمبلی کو دو سزائیں دی گئی ہیں: (۱) یہ کہ اُس کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، اس کے لیے Disregard کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس کے معنی ہیں: ’’نظر انداز کرنا یا اس کا اعتبار نہ کرنا‘‘، (۲) منحرف رکن اپنی نشست سے محروم ہوجائے گا، جسے Deseat ہونا کہا جاتا ہے۔ ہماری نظر میں کسی رکن کا جرم تو تب ثابت ہوگا جب وہ اپنی پارٹی قیادت کی ہدایت کے خلاف ووٹ دے اور اس کا ووٹ شمار بھی ہو، لیکن جب کسی کے حق میں ووٹ دینے کے باوجود وہ ووٹ شمار ہی نہ ہو تو پھر سزا کس بات کی، حدیث پاک میں ہے: ’’جس نے گناہ کا ارادہ کیا، لیکن اس پر عمل نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے نامۂ اعمال میں ایک کامل نیکی لکھی جائے گی (کیونکہ ارادے کے باوجود گناہ سے رک جانا بجائے خود ایک نیکی ہے) اور اگر وہ گناہ کا ارادہ کرے اور پھر اس پر عمل بھی کرے تو اس کے نامۂ اعمال میں ایک گناہ لکھا جائے گا، (بخاری)‘‘۔
اس کی ایک اور نظیر امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کا بیان کردہ اصول ہے، آپ جامع مسجد کوفہ میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اس دوران عبدالرحمن ابن ملجم خارجی ملعون نے زیرِ لب کہا: ’’میں ان لوگوں کو آپ سے راحت دلائوں گا‘‘، ایک شخص نے اس کی اس بات کو سنا اور سیدنا علیؓ سے کہا: ’’آپ کے بارے میں اس کے ارادے خطرناک ہیں اور یہ آپ کو قتل کی دھمکی دے رہا ہے‘‘، اِس پر سیدنا علی نے فرمایا: ’’ابھی تو اِس نے مجھے قتل نہیں کیا‘‘ اور ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: ’’میں اپنے قاتل کو کیسے قتل کردوں، (اَلْکَامِلْ لِلْمُبَرَّدْ)‘‘، یعنی انہوں نے یہ اصول قرار دیا کہ کسی کو ارتکابِ جرم سے پہلے سزا نہیں دی جاسکتی، خواہ وہ جرم انسانی تاریخ کے سنگین ترین جرائم ہی میں سے کیوں نہ ہو، کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ کے متعلق آپؐ کی یہ حدیث مبارک ہے:
’’سیدنا عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا علی ابن ابی طالبؓ ایک غزوے میں ایک ساتھ تھے، جب رسول اللہؐ وہاں اترے اور قیام فرمایا تو ہم نے بنو مدلج کے کچھ لوگ دیکھے جو اپنے چشمے یا کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے، سیدنا علی نے مجھ سے فرمایا: اے اَبُوالْیَقْظَان! (اے بیدار شخص!) ہم وہاں جاکر دیکھیں یہ لوگ کیا کام کر رہے ہیں، میں نے عرض کی: آپ چاہتے ہیں تو ہم ان کے پاس چلے جاتے ہیں، پھر ہم نے ان کے کام کو کچھ دیر دیکھا اور ہم پر نیند طاری ہوگئی، پھر ہم دونوں نے کھجور کے درختوں کے سائے میں زمین پر آرام کیا، ہم سوگئے، پس ہم اُس وقت بیدار ہوئے جب رسول اللہؐ نے ہمیں اپنے پائوں سے حرکت دی، جہاں ہم سوئے تھے، ہمارے جسم پر اُس جگہ کی مٹی لگی ہوئی تھی تو اُس دن رسول اللہؐ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا: ابو تراب! تمہیں کیا ہوا، کیونکہ آپ نے ان پر مٹی دیکھی، پھر آپؐ نے فرمایا: میں تمہیں سب سے بدبخت انسان کے بارے میں نہ بتائوں، ہم نے عرض کی: یارسول اللہ(ؐ!) ضرور بتائیے!، آپؐ نے فرمایا: قومِ ثمود کا سرخ رنگ کا شخص جس نے (سیدنا صالحؑ کی) اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں اور (میری امت کا) بدبخت ترین شخص وہ ہوگا جو اے علی! تمہاری پیشانی پر ضرب لگائے گا یہاں تک کہ تمہاری ڈاڑھی خون سے تر ہوجائے گی، (اَلسُّنَنُ الْکُبْریٰ لِلنَّسَائِی)‘‘۔ غور فرمائیے! امیرالمؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے قاتل عبدالرحمن ابن ملجم ملعون کو رسول اللہؐ نے اس امت کا بدبخت ترین انسان قرار دیا اور امیر المومنین کے بارے میں اس کے ناپاک عزائم واضح ہوچکے تھے، مگر امیر المومنین علی المرتضیٰؓ نے فرمایا: ’’میں ارتکابِ جرم سے پہلے اسے کیسے قتل کردوں‘‘۔ سو ہماری عالی مرتبت عدالت عظمیٰ ایک طرف تو منحرف رکن کے ووٹ کو ردّ کر رہی ہے، اس کا اعتبار نہیں کرتی، وہ کالعدم متصور ہوتا ہے، تو پھر جرم کیا قرار پایا جس کی سزا تجویز کی جارہی ہے، کیا یہ فیصلہ روحِ عدل کے منافی نہیں ہے۔
اب تک آئین وقانون کا فہم یہ تھا کہ کوئی رکن اپنی پارٹی قائد کی ہدایت کے خلاف ووٹ دے تو وہ شمار ہوگا اور اس پر پارٹی قائد کو یہ حق ہوگا کہ اس کے خلاف اسپیکر کے توسط سے الیکشن کمیشن میں ریفرنس بھیجے اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ نافذ ہوگا، لیکن اس کے خلاف بھی عدالت عظمیٰ میں اپیل کا حق باقی رہے گا، عدالت ِ عظمیٰ کا فیصلہ حتمی اور قطعی ہوگا۔
نیز اگر پارٹی قیادت کی ہدایت سے انحراف اتنا بڑا جرم ہے کہ جرم متحقق (Established) بھی نہ ہو، ووٹ شمار بھی نہ ہو اور دوہری سزا بھی دیدی جائے، تو ارکانِ پارلیمنٹ اپنے ضمیر کے بجائے پارٹی قیادت کے اسیر ہوں گے اور یہ پارلیمانی نظام کے لیبل کے ساتھ معنوی اعتبار سے ایک طرح کا صدارتی نظام ہوگا۔ چند سال پہلے ہم نے برطانوی پارلیمنٹ میں بریگزٹ کے مسئلے پر کئی بار کنزر ویٹیو پارٹی کے ارکان کو اپنی پارٹی قیادت کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے دیکھا، تین وزرائے اعظم اس کی نذر ہوئے، لیکن اس بنیاد پر نہ ان کے ووٹ کو بے توقیر (Disregarded) اور کالعدم قرار دیا گیا اور نہ اُن کو نشست سے محروم کیا گیا۔ پارلیمانی نظام نے تو برطانیہ میں جنم لیا ہے، اسی لیے برطانوی پارلیمنٹ کو ’’Mother of Parliaments‘‘ کہا جاتا ہے۔ ارکانِ اسمبلی تو روبوٹ بن جائیں گے، اُن کی نہ اپنی سوچ ہوگی، نہ اپنی رائے ہوگی، نہ اس کا اعتبار ہوگا، بس اپنی قیادت کے غلامِ بے دام یعنی سیاسی مزارعین ہوں گے، اس طرح تو وقت کا وزیر اعظم مُطلَق العِنان (Autocrat) بن جائے گا، ’’مُطلَقُ الْعِنَان‘‘دو لفظوں سے مرکب ہے: مُطلَق کا معنی آزاد چھوڑ دینا اور عِنان کے معنی ’’لگام‘‘ کے ہیں، یعنی جس کی
لگام کسی کے ہاتھ میں نہ ہو، کوئی اُسے کنٹرول نہ کرسکے، وہ جو چاہے کرے، ہماری سیاسی پارٹیوں میں ویسے بھی جمہوری نظام نہیں ہے، اس کے بعد تو اللہ ہی مالک ہے اور عمران خان اس کی آئیڈیل مثال ہیں۔
ماضی میں جب سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف خفیہ ووٹنگ میں 64 ووٹ گھٹ کر47رہ گئے، تب تو کسی کو اخلاقیات یاد نہ آئیں، نہ کسی پر لوٹا ہونے کے آوازے کسے گئے، بلکہ اُن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا: ’’انہوں نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا ہے‘‘، علامہ اقبال نے کہا ہے:
باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
باطل کی سو تاویلیں اور توجیہیں ہوسکتی ہیں، لیکن حق ایک ہی ہوتا ہے، متعین ہوتا ہے، متحقَّق ہوتا ہے، اشخاص وافراد اور وقت کے لحاظ سے بدلتا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، (یونس: 62)‘‘۔ ولی دکنی نے کہا تھا:
پہلے تھے میخانہ میں، اب ہیں مسجد میں ولی
عمر کے ساتھ مقامات بدل جاتے ہیں
پہلے جو آپ کہہ کر بلاتے تھے، اب وہ تو کہتے ہیں
وقت کے ساتھ خطابات بدل جاتے ہیں
ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون اقتدار میں آتا ہے اور کون کوچۂ اقتدار سے رخصت ہوتا ہے، ہم تو بے اختیار شہری ہیں، ہم صرف نظریاتی بنیادوں پر بات کرتے ہیں، وہ لوگ جنہیں اپنے قائدین سے اچھے برے کی تمیز کے بغیر جذباتی وابستگی ہے،
وہ ان سطور کو ہرگز نہ پڑھیں، لوگوں کو گالیاں دے کر، برے ناموں سے پکار کر، بدگمانی کر کے، طعن وتشنیع کرکے اور تمسخر اڑا کر اپنی عاقبت برباد نہ کریں۔ ہمارا مقصد اپنے نوجوان طلبہ اور علماء کو وقت کے تقاضوں سے آگاہ کرنا ہے، ہمارا عملی سیاست سے تعلق نہیں ہے، ہماری دلچسپی کا میدان تعلیم وتعلّم ہے، شمس الدین تبریزی نے کہا ہے: ’’ما را چہ از آن قصہ، کہ گاؤ آمد و خر رفت‘‘۔
پاکستان تحریک انصاف میں علی محمد خان کافی معقول اور متوازن آدمی لگتے تھے، اپنی ترجیحات اور اپنی دیانت کے مطابق اپنی پارٹی سے وابستگی اُن کا حق ہے، لیکن مغلوب الغضب نہیں ہونا چاہیے اور سیاسی وابستگیوں کو مذہبی صداقتوں سے تشبیہ دینا مناسب نہیں ہے، اپنی قیادت اور پارٹی سے وابستگی کے اظہار کے لیے آپ سو طریقے سے مضمون باندھ سکتے ہیں، لیکن رسول اللہؐ کے بیان کردہ سوالاتِ قبر سے مشابہت دیے بغیر بھی یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔