عالمی کساد بازاری کے خدشات ، وال اسٹریٹ کریش اور پاکستان

212

درحقیقت حکمران سمیت اپوزیشن طبقے کے مفادات یکساں ہیں،سارا بوجھ تو عوام پر پڑے گا۔ملک میں جاری لوٹ مار میں تمام سیاسی جماعتیں و مافیاز اپنا اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں کیونکہ اشرافیہ و حکمران طبقہ بخوبی جانتا ہے کہ عوام کو بیوقوف بنانا بے حد آسان ہے اس لیے جونہی الیکشن قریب آتے ہیں اپوزیشن جماعتوں کے حکومتی مخالف بیانات اور جلسے جلوسوں میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ عام لوگوں کے معیار زندگی اور ان کے لیے دستیاب سہولتیں روز بروز ختم کی جا رہی ہیں۔محنت کش عوام کے استحصال کے لیے نئے نئے ہتھکنڈے آزمائے جا رہے ہیں اور ظلم کا شکنجہ مزید کسا جا رہا ہے۔عوام کو نگلنے کے لیے مہنگائی کے دیو کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔اناج اور سبزیوں کی قیمتیں عوام کی رسائی سے دور ہو گئی ہیں۔شرم ناک بات تو یہ بھی ہے کہ بچوں کے دودھ سے لے کر جان بچانے والی ادویات تک کی قیمت میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے،سرکاری علاج معالجے کی سہولت وزراء،اراکین پارلیمنٹ کے لیے مخصوص ہے جبکہ غریب ووٹرز کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے
2021ء کا پورا سال بھی یہی مظاہرہ دیکھتے ہوئے گزرا اور 2022ء جس کا آغاز ہی منی بجٹ سے ہوا امید کی جانی چاہیے کہ نئی حکومت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مہنگائی کو کم کرنے کی حکمت عملی وضع کرے۔اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ
نیویارک کی وال اسٹریٹ پر گزشتہ روزبڑی خوردہ کمپنیوں کے حصص کو اکتوبر 1987 کے بلیک منڈی ا سٹاک مارکیٹ کے کریش کے بعد سب سے بڑی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے ، جو واضح اشارہ ہے کہ امریکا اور عالمی معیشت تیزی سے کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔وال ا سٹریٹ اس سال کے آغاز میں ریکارڈ بلندیوں پر پہنچنے کے بعد سے گر رہی ہے کیونکہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے بڑھتی ہوئی شرح سود ہائی ٹیک کمپنیوں کی ترقی یا پھیلائو کو متاثر کر رہی ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق ہیوی ٹیک ناسدک انڈیکس اس سال 25 فیصد سے زیادہ گر گیا ہے جس سے مالیاتی نظام میں ایک بڑے بحران کے پیدا ہونے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔گزشتہ روزوال ا سٹریٹ کا ڈاؤ انڈیکس تقریباً دو سالوں میں اپنے بدترین دن میں 1,100 پوائنٹس سے زیادہ کھو گیا، ایس اینڈ پی میں 4 فیصد اور ناسدک میں 4.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جس نے کساد بازاری کے بڑھتے ہوئے خدشات کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
امریکاکے سب سے بڑے خوردہ فروشوں میں سے ایک، ’’ٹارگٹ ‘‘کے حصص میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی جب کمپنی نے بتایا کہ قدرتی گیس کی زیادہ قیمتوں اور نقل و حمل کے اخراجات کی وجہ سے اس کی لاگت ایک بلین ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔اسی وقت، اسے صوابدیدی اخراجات میں کمی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ محنت کش طبقے کے خاندانوں کو مہنگائی کے اس جِن کے سامنے اپنی محنت کی کمائی کے بڑے حصے کو خوراک اور گیس جیسی ضروری اشیاء پر خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
ان اشیاء کی قیمتوں میں سرکاری افراط زر کی شرح 8.5 فیصد سے زیادہ تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ٹارگٹ کے کریش کے ساتھ ہی والمارٹ کے شیئرز گزشتہ روز 11 فیصد گرے۔اس ہفتے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فائنانس نے، جو کہ 450 مالیاتی کمپنیوں کا عالمی گروپ ہے، نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت کو کساد بازاری کے خطرات کے ساتھ مالی حالات کی بے ترتیبی کا سامنا ہو سکتا ہے،کم ترقی یافتہ ممالک، کووِڈ-19 کے اثرات سے نبرد آزما ہیں اور اب یوکرین میں روس کے خلاف امریکا-نیٹو پراکسی جنگ کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی معیشت کو متاثر کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سماجی مظاہرے اور ہڑتالیں شروع ہو گئی ہیں جیسے کہ سری لنکا میں حکومت مخالف انتشار ہے ،ماہرین کے مطابق رجحانات کم و بیش ہر جگہ ایک جیسے ہیں۔
یورپی معیشت جمود کا شکار ہے اور کساد بازاری کے دہانے پر ہے۔ جاپانی معیشت، دنیا کی تیسری سب سے بڑی، پہلی سہ ماہی میں 1 فیصد کی سالانہ شرح اور اسی عرصے میں امریکی معیشت 1.4 فیصد کی سالانہ شرح سے سکڑ گئی۔روس کے خلاف امریکا اور ناٹوکی پراکسی جنگ کے نتیجے میں خوراک کا بحران پیدا ہوا ہے جس نے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں پر فاقہ کشی مسلط کر دی ہے۔دنیا کے مرکزی بینکوں کی طرف سے کھربوں ڈالر کے بہائو نے افراط زر کی آگ کو ہوا دی ہے۔
بی بی سی کا کہنا ہے کہ باقی دنیا کی طرح برطانیہ بھی کئی دہائیوں کے بدترین معاشی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین اس بحران کو ‘ریسیشن’ یعنی کساد بازاری کہتے ہیں مگر اس کا اصل مطلب کیا ہے؟
عام حالات میں ملک کی معیشت ترقی کرتی ہے یعنی اس کی شرح نمو میں اضافہ ہوتا ہے۔شہریوں کی دولت میں پچھلے برس کے مقابلے میں اضافہ ہوتا ہے۔ شہری جس چیز کو بناتے ہیں یا جو خدمات مہیا کرتے ہیں اس کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔لیکن کبھی کبھار ان پیداواری چیزوں یا خدمات کی قدر میں کمی ہو جاتی ہے۔ جب ایک سہہ ماہی پیداواری چیزوں یا خدمات کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے تو اسے معاشی گراوٹ کہتے ہیں اگر معاشی گراؤٹ ایک لمبے عرصے تک جاری رہے تو اس معاشی افسردگی یا معاشی ڈپریشن کہتے ہیں۔
ملکی معیشت کی شرح نمو میں سالانہ اضافہ لوگوں کی اکثریت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نوکریوں کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے ملازمین یا حصہ داروں کو زیادہ ادائیگیاں کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہیں۔جب قومی پیدوار کی شرح نمو میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک میں روزگار کے نئے ذرائع پیدا ہوتے ہیںاگر معیشت ترقی کر رہی ہے تو حکومت کو بھی فائدہ ہے کیونکہ اسے ٹیکسوں کی مد میں پہلے سے زیادہ وصولیاں ہوتی ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر وہ ٹیکسوں میں رعایت، ضرورت مندوں کی مالی مدد اور اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔جب معیشت سکڑنے لگتی ہے یہ تمام فوائد ختم ہو جاتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک کی اکثریت کو رواں سال کی پہلی سہہ ماہی میں منفی ترقی یا شرح نمو میں کمی کا سامنا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا سے معیشت کو لگنے والے دھچکے کے اثرات اب سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ اپریل کے مہینہ میں اشیاء اورخدمات کے شعبہ جات کی درآمدات پر 7.015 ارب ڈالرکازرمبادلہ صرف ہوا جو گزشتہ سال اپریل میں 5.61 ارب ڈالرتھا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زرمیں سالانہ بنیادوں پر8 فیصدکی شرح سے نموریکارڈکی گئی ہے،جولائی سے اپریل تک کی مدت میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زرکاحجم 26.077 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 24.22 ارب ڈالر تھا۔ اپریل میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زرمیں سالانہ بنیادوں پر12 فیصدکی نموریکارڈکی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ملک میں کی جانے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 1.6 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ جولائی تا اپریل 2021-22 میں ایف ڈی آئی محصولات کا حجم 1.455 ارب ڈالر رہا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران پاکستان میں 1.48 ارب ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی دس مہینوں میں ایف ڈی آئی محصولات میں 1.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل 2021 میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 169 ملین ڈالر رہا تھا تاہم اپریل 2022 کے دوران ایف ڈی آئی کا حجم 170.6 ملین ڈالر تک بڑھا ہے۔ رواں مالی سال میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں چین سرفہرست رہا ہے اور دس ماہ کے دوران چین کی جانب سے پاکستان میں 355.8 ملین ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں چینی سرمایہ کاری کا حجم 699.6 ملین ڈالر تھا۔اسی طرح جاری مالی سال میں پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا دوسرا بڑا ملک امریکا رہا ہے جہاں سے 223.4 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے تاہم گزشتہ مالی سال میں امریکی ایف ڈی آئی کا حجم 112.7 ملین ڈالر رہا تھا۔ مزید برآں ہالینڈ سے کی جانے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری بھی 46.6 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 80.8 ملین ڈالر جبکہ سوئٹزرلینڈ کی پاکستان میں ایف ڈی آئی 54.3 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 119.8 ملین ڈالر اور متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری 94.3 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 118.2 ملین ڈالر تک بڑھی ہے۔
اس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو سکے گا۔برطانہ کے ساتھ ساتھ یورپ کے لیے بھی پاکستان کی برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے ۔دوسری جانب پاکستان میں آئی ایم کی لٹکتی تلوار شرح سود اور بجلی گیس کے بھاؤمیں اضافہ کا مطالبہ کر رہی ہے جس عوام براہ راست متاثر ہوں گے اور یہ حقیقت ہے کہ عوام نان و شبینہ کو محتاج ہو جائیں گے ۔