غیر ملکی سرمایہ کاری میں 1.6فیصد کی کمی ہوئی ، اسٹیٹ بینک

233

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ملک میں کی جانے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 1.6 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ جمعہ کو ا سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی تا اپریل 2021-22 میں ایف ڈی آئی محصولات کا حجم 1.455 ارب ڈالر رہا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران پاکستان میں 1.48 ارب ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی دس مہینوں میں ایف ڈی آئی محصولات میں 1.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل 2021 میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 169 ملین ڈالر رہا تھا تاہم اپریل 2022 کے دوران ایف ڈی آئی کا حجم 170.6 ملین ڈالر تک بڑھا ہے۔رواں مالی سال میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں چین سرفہرست رہا ہے اور دس ماہ کے دوران چین کی جانب سے پاکستان میں 355.8 ملین ڈالر کی ایف ڈی آئی کی گئی ہے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں چینی سرمایہ کاری کا حجم 699.6 ملین ڈالر تھا۔اسی طرح جاری مالی سال میں پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا دوسرا بڑا ملک امریکہ رہا ہے جہاں سے 223.4 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے تاہم گزشتہ مالی سال میں امریکی ایف ڈی آئی کا حجم 112.7 ملین ڈالر رہا تھا۔ مزید برآں ہالینڈ سے کی جانے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری بھی 46.6 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 80.8 ملین ڈالر جبکہ سوئٹزرلینڈ کی پاکستان میں ایف ڈی آئی 54.3 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 119.8 ملین ڈالر اور متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری 94.3 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 118.2 ملین ڈالر تک بڑھی ہے۔اسی طرح ملائیشیا سے کی جانے والی ایف ڈی آئی کا حجم بھی گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں رواں مالی سال میں 36 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 71 ملین ڈالر اور کویت سے کی جانے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری صفر کے مقابلہ میں 40.1 ملین ڈالر تک بڑھی ہے۔