جماعت اسلامی کا واٹر بورڈ ہیڈ آفس پر دھرنا، شاہراہ فیصل بلاک

176

کراچی: جماعت اسلامی نے شہر میں سخت گرمی میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف واٹر بورڈ ہیڈ آفس کے باہر دھرنا دیتے ہوئے شارع فیصل بلاک کردی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ K-4منصوبہ فی الفور مکمل کیا جائے اور کراچی کے عوام کو کہانی نہیں پانی چاہیئے۔ جو حکومت عوام کو پانی نہیں دے سکے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر کے اندر واٹر بورڈ اور ٹینکرز مافیا کی ملی بھگت ختم کی جائے،  عوام کو مہنگے داموں پانی کی فروخت سے نجات دلائی جائے۔ ہم حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی اور اس کا پلان کہاں ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اس کمیٹی میں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم شامل تھیں اب نواز لیگ کی وفاقی حکومت ہے۔ عوام کو بتایا جائے کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے کتنے فیصد حصے پر عمل کیا گیا،  جماعت اسلامی وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اہل کراچی کا حق لے کر رہے گی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ   29مئی کو مزار قائد سے ایک تاریخی ”حقوق کراچی کارواں“نکالا جائے گا۔کراچی کے لیے پانی کاآخری منصوبہ K-3۔2005میں نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے مکمل کیا۔ جس نے کراچی کو مزید 100ملین گیلن یومیہ پانی ملا، جب سے اب تک 17برس میں تمام جماعتوں اور کراچی کے عوام سے مینڈیٹ لینے والوں نے ایک قطرہ پانی کا بھی اضافہ نہیں کیا، K-4منصوبہ التواء کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ  یہ کراچی کے عوام کے ساتھ کیسا مذاق ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے 650ملین گیلن یومیہ منصوبے کا اعلان کیا اور اسلام آباد جا کر اسے 260ملین گیلن یومیہ کردیا۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ کراچی کا المیہ یہ ہے کہ کراچی ملک کو سالانہ 2700ارب روپے صرف انکم ٹیکس دیتا ہے، پاکستان کی 54فیصد ایکسپورٹ کراچی سے ہوتی ہے، 67فیصد ریونیو یہاں سے ملتا ہے، صوبہ سندھ کے 96فیصد بجٹ کا انحصار کراچی پر ہے لیکن صوبائی اور وفاقی حکومت اور ان میں شامل جماعتیں کراچی کو کچھ نہیں دیتیں۔

شرکاء نے شدید احتجاج اور پُر جوش نعرے لگاتے ہوئے شاہراہ فیصل بلاک کر دی۔ دھرنے میں شہر بھر سے خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت عوام کی بڑی تعداد شرکت کی۔  دھر نے میں تمام اضلاع سے قافلے امراء اضلاع اور دیگر ذمہ داران کی قیادت میں شاہراہ فیصل پہنچے۔

پانی کی قلت سے غیر معمولی متاثرہ علاقوں اور جن علاقوں میں کئی کئی مہینوں سے پانی نہیں آیاہے وہاں کے مکینوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔