پانی کے بحران کے خلاف واٹر بورڈ ہیڈ آفس شاہراہ فیصل پر دھرنے کی جھلکیاں

178

کراچی:وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی، مسائل سے عدم دلچسپی اور واٹر بورڈ کی نا اہلی کے باعث ملک کے سب سے بڑے شہر میں پیدا ہونے والے پانی کے بحران کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت جمعہ 20مئی کو شاہراہ فیصل پر واٹر بورڈ ہیڈ آفس کے سامنے احتجاجی دھرنادیا گیا۔

دھرنے کا باقاعدہ آغاز ڈپٹی سیکریٹری عبد الواحد شیخ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔دھرنے میں شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کی قلت اور بحران کا شکار افراد نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی جن میں نوجوانوں،بچوں اور بزرگوں سمیت خواتین بھی شامل تھیں۔

دھرنے کے شرکاء نے مختلف بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھائے ہوئے تھے جن پر وفاقی وصوبائی حکومتوں،واٹر بورڈ اور ٹینکر مافیا کے خلاف نعرے درج تھے۔جن میں یہ نعرے شامل تھے نکلا ہے کراچی، نکلا ہے،پانی نہیں ہے نلکوں میں، دیکھ کر آنا حلقوں میں،وزیراعظم صاحب، وزیر اعلیٰ صاحب کہانی نہیں پانی دو،وفاقی وصوبائی حکومتوں سے کراچی کا سوال،ہمیں پانی کب ملے گا،کرپشن،نااہلی نہیں چلے گی نہیں چلے گی،حق دو کراچی کو، پانی دو کراچی کو،پانی دو خدارا پانی دو۔

دھرنے میں شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والوں نے حافظ نعیم الرحمن کو اپنے اپنے علاقوں میں پانی کی شدید قلت اور مسائل سے آگاہ کیااور شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے ان سے اظہار یکجہتی کیا اور کہاکہ جماعت اسلامی ان کے ساتھ ہے ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔

 دھرنے میں قائد ین کے خطاب کے لیے ایک اسٹیج بنایا گیا تھا جس کے پیچھے ایک بڑا بل بورڈ لگایا گیا تھا جس پر تحریر تھا”کراچی کو پانی دو،K-4مکمل کرو، ٹینکرز مافیا ختم کرو‘‘۔

دھرنے میں شریک بعض افراد نے پانی کی عدم دستیابی کے حوالے سے علامتی طور پر خالی مٹکے اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا،ہائے پانی ہائے پانی۔ تیسر ٹاؤن سے بھی وفود نے دھرنے میں شرکت کی اور اپنے احسا س وجذبات بیان کیے۔